روس جنگ بندی مذاکرات سے پہلے بمباری بند کرے:یوکرینی صدرکا مطالبہ

نیٹو نے رُکنیت کا دروازہ بند کردیا تویوکرین قانونی طورپرپابند حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کو جنگ بندی پر بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ہمارے شہروں پر بمباری بندکرنی چاہیے کیونکہ اس ہفتے مذاکرات کے پہلے دورمیں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔

سخت حفاظت والے سرکاری احاطے میں ریکارڈ کیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ممالک پر زوردیا کہ ’’وہ روسی فضائیہ کو روکنے کے لیے نو فلائی زون نافذ کریں۔یہ ایک روک تھام کا اقدام ہوگا،اس کا مقصد اتحاد کوروس کے خلاف جنگ میں گھسیٹنا نہیں‘‘۔

زیلنسکی نے روسی فوج کی پیش قدمی کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کوچھوڑنے کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نیٹو نے یوکرین کی رکنیت کے امکانات کا دروازہ بند کر دیا تو وہ پھرقانونی طورپرپابند حفاظتی ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا۔

انھوں نے روس کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز اورامریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک مشترکہ انٹرویومیں بتایا:’’یہ ضروری ہے کہ کم سےکم لوگوں پربمباری بند کی جائے،صرف بم باری کو روکا جائے اور پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں‘‘۔

وہ جب یہ گفتگو کررہے تھے تو اس دوران ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک روسی میزائل نے ایک ٹی وی ٹاور کو نشانہ بنایا ہے۔اس سے قبل منگل کے روزروسی فوج نے مشرقی شہر خارکیف کے وسط میں میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

یوکرین کونیٹو کے بعض رکن ممالک کی جانب سے ہتھیار موصول ہوئے ہیں تاکہ اس کو روسی افواج کے مکمل حملے کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکے جبکہ مغرب نے روسی معیشت پر بعض سخت پابندیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔

لیکن زیلنسکی نےعالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ نو فلائی زون مسلط کرنےسمیت مزید اقدامات کرے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ذاتی طور پرانھیں بتایا تھا کہ اب ایسا اقدام متعارف کرانے کا وقت نہیں رہا ہے۔

یوکرین نیٹو سے یہ بھی مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اس کوجلد سے جلد تنظیم کی رکنیت دے جبکہ روس نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے یوکرین کے خلاف گذشتہ ہفتے فوجی مہم کے آغاز کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔

زیلنسکی کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’’ہمارے شراکت دار، اگر یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کوتیار نہیں ... اور کیونکہ روس بھی ایسا نہیں چاہتا کہ یوکرین اس تنظیم میں شامل ہو، اس لیے ان کے ملک لیے سلامتی کی مشترکہ ضمانتیں طے کی جائیں‘‘۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:’’اس کامطلب یہ ہے کہ ہماری علاقائی سالمیت ہواور ہماری سرحدوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے، ہمارے تمام ہمسایوں کے ساتھ خصوصی تعلقات ہوں، ہم مکمل طور پرمحفوظ ہوں اور جوضامن ہمیں سلامتی مہیّا کرتے ہیں،وہ ہمیں اس کی قانونی طور پرضمانت دیں‘‘۔

چوالیس سالہ ولودی میرزیلنسکی نے شیو نہیں کی تھی اور ان کی ہلکی ہلکی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی۔انھوں نے انٹرویو کے وقت ایک سادہ خاکی ٹی شرٹ، پتلون اور جنگی بوٹ پہنے ہوئے تھے۔یہ انٹرویو سخت حفاظتی پہرے میں ایک سرکاری عمارت میں ریکارڈ کیا گیا ہے اور فوج اس کی سخت حفاظت پر مامورہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں