مصر کی آبادی میں صرف 20 سال میں 45 ملین افراد کا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر ہالہ السعید نے ملک کی آبادی میں اضافے کے بارے میں چونکا دینے والے اعداد و شمار کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے پیر کے روز صدر عبدالفتاح السیسی کی موجودگی میں مصری خاندان کی ترقی کے قومی منصوبے کے آغاز کی سرگرمیوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2002 سے 2011 کے عرصے میں آبادی میں تقریباً 20 ملین کا اضافہ ہوا اور 2011 سے 2021 کے عرصے میں اس تعداد میں تقریباً 25 ملین کا اضافہ ہوا۔

سالانہ پچیس لاکھ بچوں کی پیدائش

انہوں نے واضح کیا کہ مصر میں سالانہ 2.5 ملین بچے پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی ترقی کے منصوبے کا بنیادی ہدف آبادی میں اضافے کی تیز رفتار اور بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنا اور آبادی کی خصوصیات کو بہتر بنانا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ مصر نے پہلی آبادی کی پالیسی بھی 1973 میں شروع کی تھی جو سول سوسائٹی کی تنظیموں کے تعاون سے کئی الگ الگ پروگراموں پر مبنی ہے۔ پھر "قومی آبادی کونسل 1985 میں قائم ہوئی اور تیسری قومی آبادی کی پالیسی 1986 میں شروع کی گئی۔

منصوبہ بندی کی وزیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ آبادی میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے معاونت اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مراعات موجود ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے کنٹرول کے ایک سیٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ بچوں کی تعداد دو بچوں سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

کل پیرکو مصری حکومت نے خاندانی ترقی کے ایک منصوبے کا آغاز کیا جس میں صحت، سماجی، خاندانی، اقتصادی اور دیگر جہتیں شامل ہیں اور اسے 3 سال کی مدت میں نافذ کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ موبلائزیشن اینڈ سٹیٹسٹکس اتھارٹی نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ملک کی آبادی بڑھ کر 103 ملین ہو گئی ہے۔ اس طرح صرف 232 دنوں میں 179.6 فی گھنٹہ کی شرح سے آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور ہرایک منٹ میں ایک بچے کی پیدائش ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں