روس اور یوکرین

یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف پر روسی فوج کے حملوں میں مزید 10 افراد ہلاک

روسی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے، دارالحکومت کیف کا دفاع اولین ترجیح ہے: یوکرینی صدر زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی فوج نے یوکرین کےدوسرے بڑے شہرخارکیف میں رہائشی علاقے پرمنگل کو دوسرے روز بھی راکٹ داغے ہیں جس کے نتیجے میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے روسی حملوں کو جنگی جرم قراردیا ہے۔

وزارت داخلہ کے مشیرانتون ہیراش چینکو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں خارکیف کے وسطی علاقے میں روسی فوج کے راکٹ حملوں میں دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا کہ حملے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کو ہٹایا جارہا ہے،اس لیے مہلوکین اورزخمیوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے روس فوج کی شہری علاقوں پر گولہ باری کو جنگی جرم قراردیا ہے اور کہا ہےکہ روس کے حملے کے چھٹے روزدارالحکومت کیف کا دفاع ان کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ خارکیف پرحملے جنگی جرم ہیں۔یہ روس کی ریاستی دہشت گردی ہے۔

دریں اثناء یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے کہا ہے کہ خارکیف میں شہری اہداف پر بمباری تنازعات کے بین الاقوامی قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سوموار کوخارکیف میں شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف گولہ باری جنگ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔یوکرینی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد جوسیپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین ان مشکل لمحات میں یوکرین کے شانہ بشانہ اورغیرمتزلزل کھڑی ہے۔

خارکیف یوکرین کے شمال مشرق میں واقع ہے اور یہ شہر گذشتہ ہفتے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ایک بڑا میدان جنگ بن چکاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں