ایران جوہری معاہدہ

ایران جوہری مذاکرات میں فریقین میں محاذآرائی جاری،مگر وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ویانا میں ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش میں سفارت کاردن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور وہ مجوزہ معاہدے کے متنازع نکات پربحث ومباحثہ کررہے ہیں تاکہ ایرانی تیل کو عالمی معیشت کے نازک وقت میں عالمی منڈی میں واپس لایا جاسکے۔

یورپی اور امریکی حکام اپنے ہدف کے مطابق فروری میں معاہدے کو حتمی شکل نہیں دے سکے تھے۔اب وہ خبردار کر رہے ہیں کہ ویانا میں دس ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری مذاکرات کے بعد معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف دن باقی رہ گئے ہیں،ہفتے اور مہینے نہیں۔اس دوران میں یوکرین پر روس کے حملے نے ان پرسفارتی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

جرمن چانسلر اولف شلز نے بدھ کے روز یروشلم میں اسرائیلی سربراہ حکومت کے ساتھ ایک نیوزکانفرنس میں مذاکرات سے متعلق کہا کہ اب فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

روس کی فوجی مہم شروع ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس اور روس نے بدھ کے روز ایک کم اہم اجلاس میں سپلائی میں معمولی اضافے کے پہلے سے طے شدہ منصوبہ پربرقراررہنے پر زوردیا ہے اورریلیف کی بہت کم پیش کش کی ہے۔

اگر جوہری مذاکرات کسی نتیجے کے بغیرختم ہو جاتے ہیں تو خام تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے تاجر اس سال عالمی منڈیوں میں ایرانی تیل کی واپسی کی توقع کر رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق دنیا میں قدرتی گیس کے دوسرے نمبر پراور خام تیل کے چوتھے نمبر پر ذخائررکھنے والا ایران شاید کسی بھی معاہدے کی صورت میں مہینوں کے اندربرآمدات میں قریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر سکتا ہے۔

ویانا میں تصفیہ طلب نکات بہت کم رہ گئے ہیں لیکن وہ اہم ہیں۔مذاکرات کاروں نے ایران کے اس مطالبے پر رات گئے تک غورکیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے نگران اس کی ماضی کی جوہری سرگرمیوں کی تحقیقات ختم کردیں۔ مغربی سفارت کاروں نے عالمی ایجنسی کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا 7 مارچ کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا۔اس میں ایران کو متعدد غیرعلانیہ مقامات پر دریافت شدہ یورینیم کے ذرّات کی ابتدا سے متعلق تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں سے تعاون نہ کرنے پر سفارتی مذمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ کی مذاکرات کار اسٹیفنی القاق نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’حفاظتی اقدامات عدم پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی حصہ ہیں اور یہ علاحدہ ہیں۔ ہم ہمیشہ آئی اے ای اے کی آزادی پر سمجھوتا کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کریں گے‘‘۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے تعاون کے پیش نظر تحقیقات کو جلد انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے مگراس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران تعاون کو فروغ دے۔ گروسی نے کہا کہ وہ ’’پرامید ہیں کہ ایک ایسا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو ان کی ایجنسی کی آزادی کو کم نہ کرے‘‘۔

گذشتہ ماہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینز نے کہا تھا کہ آئی اے ای اے دوبارہ معاہدے کی صورت میں ایران کے خلاف تحقیقات جاری رکھے۔

دریں اثناء ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے رواں ہفتے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے بات چیت کی۔ تہران کی سخت گیر حکومت نے چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر لیے ہیں اور وہ کوئی جوہری معاہدہ طے پانے کے باوجود مشرق کے ساتھ طویل مدتی تزویراتی اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں