یمن اور حوثی

تعز میں حوثی جنگجو نے ایک بچے کو اس کے گھر کے قریب گولی مار کر قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کے روزیمن کے جنوب مغرب میں تعز گورنری میں ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کے سنائپرز کے ہاتھوں ایک یمنی بچی اپنے گھر کے قریب ہلاک ہو گئی۔

تعز ہیومن رائٹس سینٹر نے بتایا کہ 16 سالہ لڑکی غانیہ رباش علی شرف کو جبل المجمہ میں تعینات حوثی ملیشیا کے اسنائپرز نے ہلاک کر دیا۔

مرکز نے اس جرم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک گولی لڑکی کی گردن میں اس وقت لگی جب وہ اپنے گھر کے قریب مقبنا ڈاریکٹوریٹ میں العشملہ گاؤں میں لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھی۔

گزشتہ روز مقبنہ کے علاقے العبد اللہ میں ایرانی حوثی ملیشیا کی بمباری کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے دو بچے زخمی ہو گئے تھے۔

حوثی ملیشیا کے نشانہ بازوں کے ہاتھوں ایک لڑکی بھی زخمی ہوئی۔ گزشتہ ہفتے کے روزشہر کے مغرب میں بئر پاشا میں میں ایک بچی کوگولی مار کر زخمی کردیا گیا جب کہ تعز کے علاقے کالابہ ایک خاتون کو اسی طرح کے سنائپر آپریشن کا نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران حوثی ملیشیا نے تعز میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں گورنری کے الگ الگ علاقوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔

انسانی حقوق کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ چھ سال کے دوران حوثی باغی ملیشیا کے ہاتھوں 17,326 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جن میں 3,916 بچے، 1,527 خواتین اور 1,053 بزرگ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں