روس اور یوکرین

تیسری جنگ عظیم جوہری اور تباہ کن ہوگی: روسی وزیرخارجہ

یوکرین نے جوہری ہتھیارحاصل کرلیے توان سے روس کو’’حقیقی خطرے‘‘کا سامنا کرنا پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیاہے کہ اگر تیسری جنگ عظیم ہوئی تو اس میں جوہری ہتھیار شامل ہوں گے اور یہ تباہ کن ہوگی۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ریا کی رپورٹ کے مطابق لاوروف نے کہا کہ روس نے گذشتہ ہفتے یوکرین کے خلاف خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا تھا، اگر کیف نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیے توان سے روس کو’’حقیقی خطرے‘‘کا سامنا کرنا پڑے گا۔

روسی خبر رساں اداروں آر آئی اے اورتاس کے مطابق لاوروف نے یہ بھی کہا کہ ماسکو کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ بعض یورپی ممالک امریکا کے جوہری ہتھیاروں کی میزبانی کررہے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مغرب کو سابق سوویت یونین کے کسی بھی ملک میں فوجی تنصیبات تعمیرنہیں کرنی چاہییں۔

لاوروف نے منگل کے روز جنیوا میں تخفیف اسلحہ کے اجلاس میں بتایا کہ یوکرین جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔انھوں نے اسے ایک حقیقی خطرہ قرار دیا ہے جس کی روس کو روک تھام کی ضرورت ہے۔

اسی اجلاس میں یوکرین کے وزیرخارجہ نے روس پر اپنے ملک پر گولہ باری کے ذریعے جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے روسی جارحیت اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے نمٹنے کے لیے خصوصی اجلاس طلب کرنے کی اپیل کی تھی۔

اتوار کے روز روسی صدر ولادی میرپوتین نے اپنے دفاعی سربراہوں کوملک کی ’’ڈیٹرنس فورسز‘‘کو ہائی الرٹ کرنے کا حکم دیا تھا اور مغربی ممالک پر یوکرین پرحملے کے تناظر میں روس کے خلاف ’’غیردوستانہ‘‘اقدامات کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا دنیا میں دوسرا سب سے بڑا اسلحہ خانہ اور بیلسٹک میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جو ملک کی ڈیٹرنس فورسز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں