بائیڈن میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں،مجھے اس کی پروا نہیں: سعودی ولی عہد

امریکا کے ساتھ ہمارے طویل اور تاریخی تعلقات ہیں، ہمارا مقصد انھیں برقراررکھنا اورمضبوط بنانا ہے:دی اٹلانٹک کوانٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ انھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں لیکن انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ واشنگٹن کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا الریاض کا مقصد ہے۔

انھوں نے یہ باتیں امریکی میگزین دی اٹلانٹک میں جمعرات کو شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب امریکا سے تعلقات کو برقرار رکھنا اور مضبوط بنانا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہمارے طویل اور تاریخی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ صدربائیڈن نے خارجہ پالیسی کے اپنے پہلے اقدامات میں سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے تھے۔امریکی صدر نے یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف عرب اتحاد کی جنگی کارروائیوں کی حمایت ختم کردی تھی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے نکال دیا تھا۔الریاض اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت منجمد کر دی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کوازسرنوِ وضع اور استوارکرنے‘‘ کا عزم ظاہر کیا تھا۔

البتہ حال ہی میں صد بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب پرقریباًروزانہ حملوں اورابوظبی پرحالیہ ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کے بعد حوثیوں کو دوبارہ دہشت گردنامزد کرنے پرغور کر رہے ہیں۔ یہ گروپ یمن میں گذشتہ سات برس سے جاری جنگ کے سیاسی حل کے لیے بات چیت سے بھی مسلسل انکار کر رہا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے انٹرویو میں دونوں ممالک کے درمیان مشسترکہ سیاسی، اقتصادی، سلامتی، دفاع اور تجارتی مفادات کا ذکرکیااور کہا کہ ہمارے پاس ان تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا ایک بڑا موقع ہےلیکن انھوں نے کہا کہ ان تعلقات کو’’پست‘‘کرنے کا بھی ’’بڑاامکان‘‘ موجود ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ اگرآپ سعودی عرب کا پوچھیں توہم تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ولی عہد سے جب انٹرویو میں صحافی جمال خاشقجی کے ترکی میں قتل اورامریکی صدر کی ان کے بارے میں رائےکے اثرات کے بعد سعودی عرب اورامریکا کے درمیان خراب تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’بس، مجھے پروا نہیں۔ یہ ان (صدربائیڈن )پرمنحصر ہے کہ وہ امریکاکے مفادات کے بارے میں سوچیں‘‘۔

یہ پوچھے جانے پرکہ سعودی عرب میں امریکا کے کیا مفادات ہوسکتے ہیں؟ولی عہد نے کہا:’’وہ امریکی نہیں ہیں، لہٰذا امریکی مفادات کے بارے میں بات کرنا یا اس کا مؤقف بیان کرناان کا کام نہیں۔

ولی عہد نے سعودی عرب کی معاشی ترقی اور وژن 2030 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج دنیا میں اس کی صلاحیت اور امکان کہاں ہے؟ یہ سعودی عرب میں ہےاوراگر آپ اسے فراموش یا نظراندازکرنا چاہتے ہیں تومجھے یقین ہے کہ مشرق کے دیگرلوگ یہ موقع دیکھ کر بہت خوش ہوں گے‘‘۔

تیزی سے ترقی کرنے والا ملک

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں 10 سب سے بڑے عالمی فنڈز میں سے دو ہیں اور عالمی نقد ذخائرمیں سے ایک اس کے پاس ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا میں مجموعی سعودی سرمایہ کاری کا حَجم 800 ارب ڈالر ہے جبکہ چین میں آج تک ہم نے100ارب ڈالر سے بھی کم سرمایہ کاری کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’’سعودی عرب میں بہت سی امریکی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔سعودی عرب میں ہمارے تین لاکھ سے زیادہ امریکی ہیں۔ان میں سے کچھ سعودی نژاد امریکی ہیں جو سعودی عرب میں رہتے ہیں اور اس تعداد میں ہر روزاضافہ ہورہا ہے۔ تو، دلچسپی واضح ہے۔آپ خواہ سعودی عرب میں جیت چاہتے ہیں یا ہارچاہتے ہیں، یہ اب آپ پر منحصر ہے‘‘۔

سعودی معاملات میں امریکی اثرو رسوخ

ولی عہد سے سعودی عرب کے داخلی معاملات میں امریکی اثرورسوخ کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کس طرح امریکا اپنے مفادات یا نظریات پرمبنی پالیسیوں پرعمل کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں کا فیصلہ کرتا ہے۔

انھوں نے اس کے جواب میں کہا:’’دراصل اگرآپ کسی ایسی چیز پرہم پردباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ہم پہلے ہی یقین رکھتے ہیں تو پھرآپ ہمارے لیے اس پرعمل درآمد مشکل بنا دیتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ دیکھیے کہ اب سعودی عرب میں سماجی ترقی پسماندہ ہو رہی ہے یا آگے بڑھ رہی ہے؟

انھوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت یا سعودی عرب کے دورے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صرف یہ دیکھیں کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں مملکت کیا ہوا ہے، آج کیا ہو رہا ہے اور دیکھیں کہ اگلے سال کیا ہونے والا ہے۔

اس کے باوجود انھوں نے سماجی طور پر کہا کہ دونوں ممالک کبھی بھی مکمل طور پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوں گے۔ہم سو فی صد تک ان کے ساتھ نہیں پہنچیں گے کیونکہ ہمارے کچھ عقائد ہیں جن کا ہم سعودی عرب میں احترام کرتے ہیں۔ یہ میں نہیں ہوں،یہ سعودی عوام ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں سعودی عقائد کا احترام کروں اور ان کے لیے لڑوں۔میں ایک سعودی شہری کی حیثیت سے اپنےعقیدے کے لیے لڑوں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں