سعودی عرب اورایران کوبقائے باہمی سے رہناچاہیے، اسرائیل ’ممکنہ اتحادی‘ہے:شہزادہ محمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ مملکت اورایران ہمیشہ کے لیے ہمسائے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔اس کا حل یہ ہے کہ دونوں کو بقائے باہمی سے رہنا چاہیے۔

ولی عہد نے جمعرات کو امریکی میگزین دی اٹلانٹک میں شائع شدہ ایک تفصیلی انٹرویو میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات پرروشنی ڈالی ہے اور اسرائیل سے مستقبل میں تعلقات کے بارے میں بھی اظہارخیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایران اور سعودی عرب ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہیں اورہم اس تعلق سے ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔اس لیے بہتر ہے کہ ہم دونوں مل کرکام کریں اور ایسے طریقوں کی تلاش کریں جن سے ہم ایک ساتھ رہ سکیں‘‘۔

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے چارادوارپرروشنی ڈالتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ ایرانی رہ نماؤں کے جو بیانات ہم نے سنے ہیں، ان کا سعودی عرب میں خیرمقدم کیا گیا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ’’مملکت مذاکرات کی تفصیل کے ذریعے پیش رفت جاری رکھے گی۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایک ایسا سمجھوتاطے پاجائے گا جو دونوں ممالک کے لیے بہترہواور جودونوں کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرے۔

یادرہے کہ سعودی عرب نے 2016ء میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پرحملے کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے لیکن دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ سال عراق کی میزبانی میں مذاکرات شروع ہوئے تھے جبکہ عالمی طاقتیں بھی تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش میں بات چیت کررہی ہیں۔

ولی عہد سے جب ایران کے جوہری پروگرام اوراس کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’کسی بھی ملک کا جوہری بم رکھنا ’خطرناک‘ہے۔مجھے یقین ہے کہ دنیا بھرمیں کوئی بھی ایسا ملک جس کے پاس جوہری بم ہے،وہ خطرناک ہے، چاہے وہ ایران ہو یا کوئی اور ملک۔ تو، ہم یہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ اور یہ بھی کہ ہم ایران سے کوئی کمزورجوہری معاہدہ نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ اس کا اختتام بھی بالآخر اسی طرح کے نتیجے پرہوگا۔

ویانا میں ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اپریل 2021 میں شروع ہوئے تھے۔ان کا مقصد ایران کو2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی تعمیل میں واپس لانا ہے۔مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے معروف اس معاہدے میں امریکا کی واپسی کو آسان بنانے کے لیے بھی بات چیت کی جارہی ہے۔2018 میں امریکا کے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے یک طرفہ طوردستبردارہوگئے تھے اور انھوں نےایران کے خلاف دوبارہ وسیع البنیاد سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

’اسرائیل ممکنہ اتحادی؟‘

فلسطین اسرائیل تنازع اور اسرائیل کے ساتھ کھلے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق سوال پر ولی عہد نے کہا کہ ’’سعودی عرب اسرائیل کو ایک ’’ممکنہ اتحادی‘‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔تاہم اس سے پہلے متعدد متنازع امورکو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع حل ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ’’ہم اسرائیل کو دشمن کے طور پرنہیں دیکھتے، ہم اس کوایک ممکنہ اتحادی کے طور پردیکھتے ہیں، بہت سے مفادات کے حصول کے لیے ہم مل کرکام کرسکتے ہیں۔ لیکن اس تک پہنچنے سے پہلے ہمیں کچھ مسائل حل کرنا ہوں گے‘‘۔

متحدہ عرب امارات نے ستمبر2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوارکرلیے تھے۔وہ ابراہیم معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے والی پہلی خلیجی ریاست تھی۔ اس کے بعد خلیجی ہمسایہ ملک بحرین نے بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل سے معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرلیے تھے۔

سعودی ذرائع ابلاغ اور قوانین

ولی عہد نے واضح کیا کہ وہ سعودی میڈیا کی جانب سے حکومت کے کام پرتنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ یہ مفید ہوتی ہے۔انھوں نے کہاکہ ’’میراخیال ہے کہ سعودی ذرائع ابلاغ کوحکومت کے کام، حکومت کے منصوبوں پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ یہ صحت مند ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے بارے میں کسی نظریاتی ایجنڈے کے بغیرمعروضی تحریر،چاہے وہ سعودی ذرائع ابلاغ کی ہو یاعالمی ذرائع ابلاغ کی طرف سے، ’’انتہائی مددگار‘‘ہے۔

مملکت کے عدالتی نظام کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دنیا کا بہترین قانون نہیں ہے، تاہم انھوں نے مزید کہا کہ اب تک بہت سی ترامیم کی جا چکی ہیں۔

انھوں نے کہا:’’میں آپ کو نہیں بتارہا ہوں (ہماراعدالتی نظام)دنیا کا بہترین قانون ہے۔ اس پرکابینہ، انتظامی اختیارات اور شوریٰ کونسل کے ذریعے کام کرنے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے ہمیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ ہم بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔پھر بھی بعض عدالتی امور میں عالمی سطح پرایک اعلیٰ معیارتک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک طویل سفرابھی طے کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں