ماسکو نے امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کی خبروں کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزارت خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ماسکو نے روس میں امریکی سفیر کو ملک بدر کر دیا ہے۔

اس نے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو میں امریکی سفیر کی بے دخلی کی خبریں غلط ہیں۔ یہ کہ اقوام متحدہ سے روسی سفارت کاروں کو بے دخل کرنے کے امریکی فیصلے پر ردعمل کا طریقہ کار زیر غور ہے۔

گذشتہ پیر کو واشنگٹن نے اعلان کیا کہ اس نے 12 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے جو کہ اقوام متحدہ میں روسی مشن کے ارکان ہیں۔ ان سفارت کاروں پر ان کی ذمہ داریوں سے ہٹ کرسرگرمیوں میں ملوث ہونے اور معاندانہ طرز عمل میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا۔

دوسرئ طرف واشنگٹن میں روسی سفیراناتولی انطونوف نے زور دے کر کہا کہ روس امریکا کی طرف سے 12 روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کو جو اقوام متحدہ میں روسی مشن کے رکن ہیں کو ماسکو کے خلاف ایک دشمنانہ کارروائی سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اقدامات گہری مایوسی اور مکمل طور پر مسترد ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ امریکی حکومت نے ایک بار پھر عالمی ادارے میں بیرونی ممالک کے نمائندہ دفاتر کے لیے معمول کے کام کے حالات کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے سفارت کاری کے بجائے ہمارے ملک کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔

واشنگٹن نے 12 روسی سفارت کاروں پر ’انٹیلی جنس ایجنٹ‘ ہونے کا الزام لگایا ہے لیکن اس نے کہا کہ یہ اقدام کئی مہینوں سے کی تیاری کا نتیجہ ہے۔ جس کا مقصد یوکرین کے خلاف روس کی جنگ پر امریکی ردعمل سے اس اقدام کو الگ کرنا تھا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس نے بدھ کو ایک بیان میں یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کے جواب میں بیلاروس کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔

"اے ایف پی" کے مطابق واشنگٹن نے روسی دفاعی صنعت کو نشانہ بنانے کے لیے مخصوص اقدامات بھی کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں