روس اور یوکرین

پوتین کے غیر ذمے دارانہ تصرفات پورے یورپ کے لیے خطرہ ہیں: بورس جانسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میری پوتین یورپ کے امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

جمعے کے روز وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پوتین کے غیر ذمے دارانہ اقدامات سے پورے یورپ کی سلامتی براہ راست خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

جانسن نے واضح کیا کہ وہ آئندہ گھنٹوں میں عالمی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی کوشش کریں گے۔

برطانیہ کا یہ موقف روسی افواج کی جانب سے یوکرین کے وسط میں واقع زیپروزیا جوہری پلانٹ پر بم باری کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہے۔

ادھر یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے جمعے کے روز جاری ایک وڈیو پیغام میں ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "جوہری دہشت" کا سہارا لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "روس یورپ میں سے بڑے جوہری پلانٹ کو بم باری کا نشانہ بنا کر چرنوبل سانحے جیسا واقعہ دہرانے کی کوشش میں ہے ... روس کے سوا دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے جوہری توانائی کے پلانٹوں پر آگ برسائی ہو۔ یہ انسانیت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی ملک جوہری دہشت کا سہارا لے رہا ہے"۔

دوسری جانب یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ زیپروزیا کے جوہری پلانٹ میں لگی آگ کو بجھا دیا گیا ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق یوکرین نے اسے آگاہ کیا ہے کہ جوہری پلانٹ کے بنیادی ساز و سامان کو نقصان نہیں پہنچا۔ ایجنسی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ یوکرینی حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے آگ پر قابو پا لیا اور اسے پھیلنے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ یوکرین کے حکام نے آج جمعے کو علی الصباح اعلان میں بتایا تھا کہ روسی افواج نے ہر سمت سے زیپروزیا کے جوہری پلانٹ پر بم باری کی یہاں تک کہ اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

یہ واقع یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے نویں روز پیش آیا ہے۔ آپریشن کا آغاز 24 فروری کی صبح ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں