یوکرین کی سرحد پر پناہ گزینوں کو نسلی امتیاز کا سامنا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"یہ نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والے ننھے بچے افغانستان یا عراق سے نہیں آئے ہیں" ... یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ساتھ کئی روز سے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ یہ صورت حال بعض مغربی صحافیوں کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر بالخصوص پولینڈ کی سمت پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کی کوریج کے سبب سامنے آئی ہے۔

یوکرین کے اٹارنی جنرل ڈیوڈ سیکفارلیدزی نے چند روز قبل "بی بی سی" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے ملک میں جاری جنگ میں "نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والے یورپی روزانہ ہلاک ہو رہے ہیں"۔ اس بیان کے بعد ڈیوڈ کو مختلف حلقوں کی جانب سے نسلی امتیاز برتنے کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر یوکرین میں امریکی چینل CBS نیوز کے نمائندے چارلی ڈیگاٹا نے اسکرین پر اپنے ایک تبصرے میں کہا کہ "خالص احترام کے ساتھ ... یہ عراق یا افغانستان جیسی جگہ نہیں جو دہائیوں سے جنگ کے سبب جانے جاتے ہیں بلکہ یہ نسبتا جدید اور تہذیب یافتہ یورپی ملک ہے ،،، ہم اس طرح کا مماثل معاملہ ہونے کے منتظر نہیں"۔

امریکی چینل CNN کے ایک کارکن بیجان حسینی نے تصدیق کی ہے کہ دو روز قبل "گندمی رنگت رکھنے والی" اس کی بہن جو یوکرین کی سرحد پر پھنس گئی اسے سرحدی محافظین نے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بیجان کے مطابق سیکورٹی حکام نے پناہ گزینوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک میں سفید فام اور دوسری میں سیاہ فام ہو جائیں۔

ہجرت کی بین الاقوامی تنظیم IMO کے ڈائریکٹر جنرل انٹونیو ویتورینو کے مطابق یوکرین میں رہنے والے مہاجرین کو متاثر علاقوں سے کوچ کرنے اور پڑوسی ممالک کی سرحد پار کرنے کی کوشش میں "بڑے چیلنجوں" کا سامنا ہے۔ یہ لوگ درجنوں ممالک کی مختلف شہریت رکھتے ہیں جن میں بچے ، خواتین اور طلبہ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور کے کمشنر ویلیبو گرانڈی نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے دس لاکھ یوکرینی شہریوں نے ملک سے راہ فرار اختیار کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں