’’رٹزکارلٹن وقوعہ؛سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن تھا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی جریدے کو انٹرویو میں کہاہے کہ 2017ء میں رٹزکارلٹن کا وقوعہ حکومت کی جانب سے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات کے مطابق بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن تھا۔

واضح رہے کہ نومبر2017 میں سعودی حکام کے بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن میں یہ شاندار ہوٹل مذاکراتی مرکزکے طورپر استعمال ہواتھا۔ حکام نے کاروباری اور سیاسی اشرافیہ کے ارکان کو حراست میں لیا تھا۔ان میں سے کچھ نے مذاکرات کا راستہ منتخب کیا اور کچھ کے کیس قانونی چارہ جوئی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کردیے گئے تھے۔

تحقیقات کے لیے ایک ہائی پروفائل ہوٹل کیوں استعمال کیا گیا؟ولی عہد نے اس سوال پرامریکی میگزین دی اٹلانٹک کو بتایا:’’اس کی وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے خلاف تحقیقات کی گئیں،وہ گرفتار نہیں تھے۔انھیں دواختیارات دیے گئے تھے: معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت یا قانونی چارہ جوئی کے لیے پبلک پراسیکیوشن سے رجوع‘‘۔

ان کے بہ قول اس پیش کش کے بعد قریباً95 فی صد نے مذاکرات کا راستہ اختیارکیا تواس عمل تک وہ مجرم نہیں ، ہم انھیں جیل میں نہیں ڈال سکتے تھے۔ انھوں نے مذاکرات کے لیے رٹزکارلٹن میں رہنے اور بات چیت سے معاملات طے کرنے سے اتفاق کیااور مجھے یقین ہے کہ قریباً 90 فی صد مذاکرات بند ہوچکے ہیں۔باقی، جن لوگوں نے مذاکرات سے انکارکیا،انھوں نے سعودی قانون کی بنیاد پر پبلک پراسیکیوشن کا رخ کیا۔

مغربی ناقدین نے دعویٰ کیا ہے کہ رٹزکارلٹن واقعے کا مقصد ولی عہد کے’’حریفوں‘‘کو ختم کرنا تھا۔اس پرانھوں نے کہا:’’پہلے نمبرپرتوایسے حریف موجود ہی نہیں کہ انھیں رٹز کارلٹن میں ڈال کرختم کرنے کی ضرورت ہو۔ آپ ان لوگوں کو کیسے ختم کر سکتے ہیں جن کے پاس شروع کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں‘‘۔

ولی عہد نے اس بات پرروشنی ڈالی کہ یہ آپریشن 2015 میں شاہ سلمان کی ہدایات پرمبنی تھاتاکہ ’’بدعنوانی سے چھٹکارا‘‘حاصل کیا جاسکے۔انھوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ آپریشن مستقبل میں مملکت میں بدعنوانی کا راستہ منتخب کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک مضبوط اشارہ تھا اورپھرکچھ لوگوں نے سوچا کہ سعودی عرب صرف بڑی وہیل (مچھلی)، اچھی بڑی اور بدعنوان مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے. لیکن مجھے یقین ہے کہ 2019 سے 2020 تک، وہ سمجھ گئے تھے کہ اگر آپ 100 ڈالر چوری کرتے ہیں تو بھی آپ اس کی قیمت ادا کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں