روس پر پابندیوں نے اسرائیل کو دولت مندوں کے مخمصے میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی حکومت اتوار کے روز اپنے ہفتہ وار اجلاس میں اُن سیاسی اور اقتصادی اثرات سے متعلق سفارشات کو زیر بحث لائے گی جو مغربی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے سبب عبرانی ریاست پر مرتب ہوں گے۔ مغربی ممالک کی جانب سے ماسکو پر مذکورہ پابندیاں یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق مذکورہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اسرائیلی حکومت نے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی۔ ٹیم میں وزارت مالیات ، وزارت دفاع اور اسرائیل کے مرکزی بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو بھیجے گئے ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ پابندیوں کے زمرے میں آنے والی روسی مالی رقوم اسرائیلی بینکوں میں منتقل نہیں ہوں گی۔

اخبار نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی "اولیگارک" گروپ کی جانب سے مدد کی درخواست موصول ہونے کے حوالے سے خبردار رہے، اگرچہ اس گروپ کے بعض افراد نے ماضی میں اسرائیل کو مالی عطیات دیے ہیں۔ امریکی پابندیوں میں شامل اولیگارک گروپ روسی شخصیات کا ایک چھوٹا سا مجموعہ ہے۔ اولیگارک کا نام روسی دولت مند ترین شخصیات کے لیے استعمال ہوتا ہے جو 1991ء میں سوویت یونین کے سقوط کے بعد نمایاں صورت میں سامنے آئے۔ تاہم میڈیا میں یہ اولیگارک روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے حکومتی نظام کے مقرب کاروباری افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کئی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اسرائیلی شہریت رکھنے والے بعض روسی مالداروں کے نجی طیارے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر اترے۔ یدیعوت احرونوت اخبار نے ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتایا کہ روس کے ان شہریوں کو ابھی تک پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ لوگ اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔

اخبار کے مطابق اسرائیلی قانون کے تحت کوئی بھی اولیگارک رکن جو مغربی ممالک کی پابندیوں کی فہرست میں آتا ہو تاہم وہ اسرائیلی شہریت کا حامل ہو تو اس کے لیے گنجائش ہے کہ وہ کشتی پر سوار ہو کر اسرائیل کی کسی بندرگاہ پہنچ سکتا ہے۔ ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے اسرائیلی شہری ہونے کی حیثیت سے ایسا کرنے سے روک سکے۔

اسرائیلی ماہرین اس وقت جن سوالات پر غور کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ثانوی پابندیوں سے متعلق امور میں کس طرح سے تصرف کیا جائے۔ ثانوی پابندیاں کا مطلب وہ پابندیاں ہیں جو ایسے فرد یا کمپنی پر عائد کی گئی ہے جو پابندیوں کے زمرے میں آنے والے ادارے یا فرد کے ساتھ معاملات انجام دے۔

یہ ٹیکنالوجی کی اُن متعدد اسرائیلی کمپنیوں کے حوالے سے نہایت اہم سوال ہے جن میں روسی مالداروں نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ غالبا اسرائیل اولیگارک پر پابندیوں کا اطلاق نہیں کرے گا اس لیے کہ اس سے اسرائیلی معیشت کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

روس میں یہودی دولت مندوں کی تعداد

روسی تجزیہ کاروں کے مطابق سرکاری اعداد و شمار نہ ہونے کے سبب روس میں بسنے والے یہودی اولیگارکوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ البتہ 2014ء میں روسی اخبار "لانتا" کی ویب سائٹ نے روس میں دولت مند ترین افراد کی نسلی اصلیت کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران میں یہ بات سامنے آئی کہ روس میں دولت مند ترین شخصیات میں ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد یہودیوں کی ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر 132.9 ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے بعد سے اب تک اس رقم میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

اخبار کے مطابق روس میں اس وقت سب سے زیادہ دولت مند یہودی لیونڈ میخلسن ہے۔ سال 2021ء کی معلومات میں اس کی مجموعی دولت کا حجم 24.9 ارب ڈالر بتایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں