متحدہ عرب امارات کا مالیاتی جرائم، منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام نے انسدادِ منی لانڈرنگ اورانسداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دبئی حکومت کے میڈیا آفس کی جانب سے ایک ٹویٹ میں یواے ای کے وزیرداخلہ اور نائب وزیراعظم شیخ سیف بن زایدآل نہیان کے حوالے سے کہا گیا کہ’’ سلامتی اور معاشی خوشحالی کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کوہمیشہ ترجیحی اہمیت حاصل رہےگی‘‘۔

انھوں نے کہا:’’اس کامطلب یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ اوریواے ای کے قانون نافذ کرنے والےادارے ہمارے ملکی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قریبی ہم آہنگی کے ذریعے پیچیدہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کے اثاثوں کی تحقیقات اوران کو قانون کے شکنجے میں لانے کاعمل جاری رکھیں گے‘‘۔

انھوں نے متحدہ عرب امارات کی مختلف وزارتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ہماری اینٹی منی لانڈرنگ نظام کومضبوط بنانے کی جاری کوششیں اس عالمی مسئلے کوتزویراتی ترجیح کے طورپرحل کرنے کے ہمارے مضبوط عزم کا ثبوت ہیں۔

واضح رہے کہ یواے ای مالیاتی جرائم سے نمٹنے اورمنی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے فریم ورک کومضبوط بنانے کے لیے متعدداہم اقدامات پرعمل درآمد کررہا ہے اور اس کے یہ اقدامات ملک کے نیشنل ایکشن پلان اور اے ایم ایل/سی ایف ٹی کے لیے قومی حکمتِ عملی کے مطابق ہے۔

اب تک یواے ای کے اہل حکام نے اے ایم ایل/سی ایف ٹی کے لیے بین الاقوامی معیارات اپنانے میں بے مثال پیش رفت کی ہے۔وہ اپنی کوششوں میں اضافہ کرتے رہیں گے جن میں قریبی اورجاری ادارہ جاتی ہم آہنگی، بین الاقوامی تعاون اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک شامل ہیں۔

یواے ای کے اعلیٰ حکام نے اعلیٰ سطح پریواے ای کے عزم کواجاگر کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ عالمی اے ایم ایل/سی ایف ٹی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے مالیاتی جرائم کا مقابلہ یواے ای کے لیے ایک تزویراتی ترجیح ہے۔

وزیرخارجہ و بین الاقوامی تعاون شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ’’یواے ای منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کی رفتار کو تیزکرنے کا خواہاں ہے کیونکہ یہ فائل ملک کے لیے ایک تزویراتی ترجیح ہے‘‘۔

شیخ عبداللہ یواے ای کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس حیثیت سے میں اپنے قومی اے ایم ایل/سی ایف ٹی فریم ورک کو مضبوط بنا کر اعلیٰ سطح پر متحدہ عرب امارات کے عزم کو اجاگرکرناچاہتا ہوں جس میں ایف اے ٹی ایف، ہمارے بین الاقوامی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ پائیداراورجاری بنیادوں پر مل جل کر کام کرنا بھی شامل ہے۔

دولت مند خلیجی ملک کا نام جمعہ کو پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے گرے فہرست میں شامل کیا ہے۔اس میں کل 23 ممالک کے نام ہیں۔ان میں یمن،شام اورجنوبی سوڈان ایسے ممالک شامل ہیں۔اس کے بعد ملک نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف’’مضبوط اقدامات‘‘کا وعدہ کیا ہے۔

عالمی واچ ڈاگ نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ گرے لسٹ میں شامل ممالک منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت اورپھیلاؤ کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی حکومتوں میں تزویراتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ٹاسک فورس کی جانب سے مقررکردہ تقاضوں کو پوراکرنے کی کوشش کریں گے۔ان میں قانونی چارہ جوئی میں اضافہ اور پابندیوں کی خلاف ورزی کی نشان دہی شامل ہے۔

یواے ای کے ایگزیکٹو آفس برائے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات عالمی مالیاتی نظام کی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی سنجیدگی سے کرداراداکرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں