مصری صدر کے مشیر کی ملک میں آبادی میں اضافے پرتنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ایک مشیر نے ملک میں بچوں کی بڑی تعداد پر تنقید کی۔

سیسی کے مذہبی امور کے مشیر اسامہ الازہری نے کہا کہ مصر میں تولیدی عمل یا جسے بے ترتیب اور اندھا ھند پیدائش کے نام سے جانا جاتا ہے ایک غلط ثقافت ہے۔

انہوں نے کل جمعرات کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان کے دوران کہا کہ گزشتہ چار پانچ دہائیوں کے دوران مصر میں لوگوں کے ذہن سلفی کلچر سے بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ اس حدیث کی وضاحت اور تشریح کو دیکھے بغیراندھا دھند بچے پیدا کررہے تھے۔ اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’نکاح کرو، زیادہ بچے پیدا کرو کیونکہ میں امت کی تعداد پر قیامت کے روز فخر کروں گا‘۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس ثقافت نے عوام کو یہ باور کرایا کہ گویا کثرت اولاد شریعت کا مقصود بالذات ہے۔ آپ کو کسی بھی شکل میں اور کسی بھی طریقے سے اولاد میں اضافہ کرنا چاہیے، چاہے آپ امیر ہوں یا غریب۔

بچے کی پیدائش کو ملتوی کرنا جائز ہے

مصری عہدیدار نے واضح کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ "بڑی تعداد میں بڑھو، محفوظ رہو، اور مال و دولت سے بھرو، نہ کہ گندگی کی کثرت کی طرح، جیسا کہ رسول نے یہ بھی کہا کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ آپ کے وارثوں کو امیر ہونے دیں اس کے بجائے کہ وہ لوگوں پر انحصار کریں اور بھیک مانگیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک غریب بھیڑ، بیماری سے بھرا، بے شمار بے کار، اور علم کی دولت بے بہرہ نہیں ہونا چاہیے۔

السیسی کے مشیر نے اندھا دھند افزائش نسل کے خلاف خبردار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بچے کی پیدائش کو ایک، دو یا تین سال تک ملتوی کرنا جائز ہے جب تک کہ یہ خاندان کو منظم کرنے اور انسان کے لیے ایک باوقار زندگی قائم کرنے کا طریقہ ہو۔

مصری وزیر منصوبہ بندی ڈاکٹر ہالہ السعید نے چند روز قبل ملک میں آبادی میں اضافے کے حوالے سے چونکا دینے والے اعداد و شمار کا انکشاف کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ بیس سال میں ملک کی آبادی میں 45 ملین افراد کا اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں