روس اور یوکرین

یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج دسواں روز ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج میں شدید لڑائی جاری ہے۔ جرمنی کی وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین نے بھاری ہتھیار طلب کیے ہیں جن میں فوجی ٹینک ، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ہتھیاروں کا ایک حصہ یوکرین روانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کو اُن خامیوں کو دور کرنا ہو گا جن کے ذریعے ماسکو خود پر عائد پابندیوں سے بچ نکل سکتا ہے۔

دوسری جانب روسی افواج نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ یوکرین کے حکام نے خارکیف میں شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔

شہر کے مختلف حصوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔

یوکرینی میڈیا کی ویب سائٹوں پر نشر ہونے والے وڈیو کلپوں میں کیف کے زیر انتظام علاقے پوروڈینکا میں عمارتوں کی وسیع پیمانے پر تباہی ظاہر ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں کیف اور بیلا روس کے بیچ ہائی وے پر تباہ شدہ روسی ٹینکوں اور عسکری ساز و سامان کو بھی دیکھا گیا۔

امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ یوکرین کی فوج کے حملوں اور ناکام منصوبہ بندی نے کیف کی جانب دھیرے دھیرے بڑھنے والے ایک بڑے فوجی قافلے کا راستہ روک دیا۔

ادھر روسی فوج میکولایف شہر پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جگہ سے مستقبل میں اوڈیسا میں چھاتہ برداروں کو اتارے جانے کی کارروائیوں کو سپورٹ کیا جا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں