روس اور یوکرین

یوکرین میں قریباً 20 ہزارغیرملکی رضاکارروسی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں اس وقت قریباً 20 غیرملکی جنگجو حملہ آور روسی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔ان بین الاقوامی رضاکاروں میں زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے۔

یوکرین میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف وزیرخارجہ دمیتروکلیبا نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’روس نے حالیہ برسوں کے دوران میں جو کچھ کیا ہے،دنیا میں بہت سے لوگ اس بنا پراس سے نفرت کرتے ہیں لیکن کسی نے کھلے عام روسیوں کی مخالفت اور ان سے لڑنے کی دلیری نہیں کی تھی۔اب لوگوں نے دیکھا کہ یوکرینی لڑرہے ہیں اوروہ اس سے دستبردار ہونے کو تیارنہیں توانھیں لڑائی میں شرکت کی ترغیب وتحریک ملی اور وہ روس کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سامنے آئے ہیں‘‘۔

تاہم یوکرینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وہ غیرملکیوں کے برسرزمین کردار ادا کرنے کی قدرکرتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر سے یوکرین کو پائیدار، سیاسی ، اقتصادی اور فوجی امدادوحمایت مہیا کی جائے۔

کلیبا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اس ضمن میں ہم امریکی قیادت کی جانب سے کردارکے منتظر ہیں اور خصوصی طور پر فضائی دفاع پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

گذشتہ ماہ روس کی یوکرین پرفوجی چڑھائی کے آغاز کے وقت صدرولودی میرزیلنسکی نے غیرملکیوں کو کھلے عام ملک میں آنے کی دعوت دی تھی کہ وہ آئیں اور یوکرین کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ روسیوں کے خلاف لڑیں۔

انھوں نے رضاکاروں کو دعوت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں قائم یوکرین کے سفارت خانوں سے رابطہ کریں۔

چناں چہ ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو یوکرین میں ہتھیاراٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔برطانوی وزیرخارجہ لیز ٹرس نے بھی اپنے شہریوں کو اسی طرح کی اجازت دی ہے کہ یوکرین میں جاکرروسی فوج کے خلاف لڑسکتے ہیں۔

لیکن اتوار کوبرطانیہ کی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل ٹونی راڈکین نے ان کے اس مؤقف کی مخالفت کی ہے اور اس کے برعکس کہا ہے کہ برطانویوں کا یوکرین میں جاکر روس کے خلاف لڑنا بالکل ’’غیرقانونی اور غیرمددگار‘‘ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں