افغانستان وطالبان

انتہائی سخت گیر طالبان کمانڈر سراج الدین حقانی آخر کارسامنے آہی گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کو مطلوب حقانی نیٹ ورک کے کمانڈر سراج الدین حقانی نے طویل عرصے تک خود کو چھپائے رکھا مگر انہیں اب پہلی بار اصل حالت میں دیکھا گیا ہے۔

سراج الدین حقانی طالبان کے انتہائی خفیہ اور سخت گیر رہ نماؤں میں سے ایک ہیں پہلی بار ہفتہ کوکابل میں ایک سرکاری تقریب کے دوران کھلے چہرے کے ساتھ نمودار ہوئے۔

حقانی جو طالبان کی حکومت میں وزارت داخلہ کے سربراہ ہیں۔ان کی ایک سابقہ تصویر میں ان کی شناخت ظاہر نہیں ہو رہی اور ان کے چہرے کے خدو خال کا پتا نہیں چل رہا ہے۔

پولیس اکیڈمی میں طلباء کے لیے ایک گریجویشن تقریب کے دوران اپنی ایک تقریرمیں انہوں نے کہا کہ آپ کو مطمئن کرنے اور آپ کا اعتماد قائم کرنے کے لیے میں آپ کے ساتھ ہوں‘۔اس موقعے پر ان کی تصاویر لی گئیں۔

دریں اثنا، طالبان حکام نے حقانی کی اس فوٹیج کی تصدیق کی ہے جو ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھی۔

10 ملین ڈالر

قابل ذکر ہے کہ جب تک اس نے گذشتہ اگست میں اقتدار پر قبضہ نہیں کیا سراج الدین طالبان رہ نما ہیبت اللہ اخوندزادہ کے 3 نائبین میں سے ایک تھے اور ساتھ ہی اس نیٹ ورک کے رہ نما تھے۔

جب سے طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا ہے اخوندزادہ عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں اور کچھ افغان تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔

حقانی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ اس نے گذشتہ بیس برسوں میں افغانستان میں طالبان کے مہلک ترین حملے کیے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حقانی اب بھی ایف بی آئی کی مطلوبہ فہرست میں شامل ہیں جس نے ان معلومات کے عوض 10 ملین ڈالر تک کی پیشکش کی تھی جو ان کی گرفتاری کا باعث بن سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں