ریاض میراتھن میں مملکت اور دنیا بھر سے 10 ہزار افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی اسپورٹس فار آل فیڈریشن (SFA) نے سال 2022 کے لیے ریاض میراتھن کے دوسرے ایڈیشن کے انعقاد میں کامیابی حاصل کی ہے جو آج دارالحکومت ریاض کے مرکز میں منعقد ہوئی۔ اس میں مملکت کے تمام علاقوں سے 10,000 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا۔

شرکا کا تعلق خلیجی ریاستیں اور پوری دنیا کے ممالک سے تھا جو کھیلوں کے اس بین الاقوامی مقابلے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ مملکت سعودی عرب میں منعقد ہونے والی پہلی پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی میراتھن ہے۔ اسے ایشین اور انٹرنیشنل ایتھلیٹکس فیڈریشنز نے منظور کیا تھا اور یہ سب سے نمایاں کھیلوں میں سے ایک ہے۔ آج تک سعودی اسپورٹس فار آل فیڈریشن کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کی منفرد سرگرمی کا مقصد معاشرے کے تمام افراد کے لیے ورزش اور جسمانی صحت کے فوائد جانب توجہ دلانا ہے۔

اس موقع پر وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل اور سعودی اولمپک اور پیرا اولمپک کمیٹی کے چیئرمین نے ایک پریس بیان میں کہا کہ کھیلوں کے شعبے میں ہمیں خام حرمین شریفین کی طرف سے بہت زیادہ توجہ ملتی ہے اور ولی عہد کی طرف سے حمایت، دلچسپی اور مکمل سرپرستی حاصل ہے۔اس طرح کی سرگرمیوں سے کھیلوں پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مملکت کے کھیلوں کے حوالے سے 2030 وژن کے اہداف کے مطابق ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی نے مزید کہا کہ آج ہم نے ریاض میراتھن کے دوسرے سیشن کے قیام کا مشاہدہ کیا جس میں مملکت کے اندر اور باہر سے معاشرے کے تمام طبقات کے 10,000 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔

42 کلومیٹر کی دوڑ میں مملکت اور دنیا بھر سے ہزاروں کھیلوں اور دوڑ کے شوقین افراد کو اکٹھا کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس تاریخی واقعے کی پیروی کرنے اور ایونٹ کے ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میراتھن کا آغاز صبح 6:15 بجے شاہ سعود یونیورسٹی سے شروع ہوا جو تاریخی درعیہ، شہزادہ محمد بن سلمان روڈ، اہم شاہراہوں سے ہوتی ہوئی شاہ عبداللہ فنانشل سینٹر اور ڈیجیٹل سٹی پر ختم ہوئی۔

میرا تھن کے ٹریک اس انداز میں ترتیب دیے گئے تھے تاکہ شرکا ریاض شہر کے اہم تاریخ مقامات کے بارے میں جان سکیں۔

میراتھن کا انعقاد اسپورٹس فار آل فیڈریشن نے وزارت کھیل کے براہ راست تعاون سے کیا تاکہ معیار زندگی کے پروگرام کے اہداف حاصل کیے جا سکیں جو مملکت کے وژن 2030 کے پروگراموں میں سے ایک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں