سعودی عرب میں لاکھوں برس پرانی نباتاتی چٹانوں کاوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں چٹانی نباتات مملکت میں ارضیاتی مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں دھاتیں یا رسوبی مواد ٹھوس نباتاتی شکل میں موجود ہیں۔

ارضیاتی ماہر عبداللہ الشمری نے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اس نوعیت کے عناصر لاکھوں برس قبل وجود میں آئے۔ یہ توجہ اور حفاظت کے مستحق ہیں تاکہ انھیں تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جس سے سیاحت کے شعبے میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے"۔

اس نوعیت کے مظاہر دنیا میں کئی ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے حجم بہت بڑے ہیں اور یہ سالانہ لاکھوں سیاحوں کو کھینچ لانے کا ذریعہ ہیں۔

الشمری کے مطابق یہ چٹانی نباتات گول یا بیضوی شکل کی ہوتی ہیں۔ سعودی عرب میں یہ وسطی اور شمالی علاقوں میں بالخصوص الریاض ، قصیم ، الجوف ، شمالی سرحد اور نجران کے صوبوں میں پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبہ عسیر اور نیوم کے علاقے میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کا حجم کئی سینٹی میٹروں یا میٹروں میں ہوتا ہے۔

ان میں بعض چٹانیں جانوروں یا نباتات کی شکل کی ہوتی ہیں۔ اس نوعیت کی مشہور ترین چٹانیں امریکا کے علاقے مینڈوسینو اور گرین لینڈ کے مشرق میں جیمسن کے علاقے میں واقع ہیں۔ ان کے علاوہ نیوزی لینڈ کے جنوب میں واقع جزیرے کے نزدیک ساحل پر بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ عرب دنیا میں اس نوعیت کی سب سے زیادہ مشہور چٹانیں مصر میں ہیں۔ ان کی شکل تربوز کی صورت سے ملتی جلتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں