سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹریز کا اپنے ڈرون تیارکرنے کے منصوبہ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی فوجی صنعتوں (سامی) کے چیف ایگزیکٹو ولید ابوخالد نے سعودی ساختہ ڈرون تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن الاخباریہ نے اتوار کے روزولیدابوخالد کے حوالے سے کہا ہے کہ 2030ء تک 50 فی صد سے زیادہ فوجی اخراجات کو مقامی بنایا جائے گا۔انھوں نے بتایا ہے کہ کمپنی ’’دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ کی فیکٹری‘‘کے قیام اور دفاعی صنعتوں کو مقامی بنانے پر کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں مقامی دفاعی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے 2017ء میں سامی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کی مکمل ملکیت کی حامل ذیلی کمپنی ہے اور یہ فوجی صنعتوں کی مقامی سطح پر تیاری میں قومی چیمپئن کا کردار ادا کررہی ہے۔ یہ عالمی دفاعی شو (ڈبلیو ڈی ایس) کے تزویراتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

سامی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہاکہ وہ 2030 تک دنیا کی سرفہرست 25 دفاعی اور سکیورٹی کمپنیوں میں سے ایک بننے کے لیے تبدیلی کا عمل تیزکرنا چاہتی ہے۔اس نے مزید کہا کہ وہ اپنی جدید اور جامع دفاعی مصنوعات اور نظام کی نمائش کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ او ای ایم ز کے ساتھ اپنی شراکت داری کو وسعت دینا چاہتی ہے، نئے مشترکہ منصوبوں اور ذیلی اداروں کے قیام، روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنےاورعالمی دفاعی شو 2022 میں شرکت کے ذریعے اپنی برآمدات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی دفاعی شو اتوار کی صبح عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔اس شو میں 40 سے زیادہ ممالک کے قریباً 600 نمائش کنندگان شرکت کررہے ہیں اور منتظمین نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس نمائش کو دیکھنے کے لیے 30 ہزار سے زیادہ افراد آئیں گے۔

یہ نمائش ہر دو سال کے بعد منعقد ہوا کرے گی۔اس کا اہتمام مملکت کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز (جامی ،جی اے ایم آئی) نے کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں