یمن میں ’طبیبان ماورائے سرحد‘ کے دوغیرملکی ملازم اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں مسلح افراد نے مشرقی گورنری حضرموت میں طبیبان ماورائے سرحد(ڈاکٹرزودآؤٹ بارڈرز) کے دو غیر ملکی ملازمین کواغوا کر لیا ہے۔

فرانس میں قائم طبی خیراتی ادارے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزکو بتایا کہ اس کا یمن میں اپنے عملہ کے بعض ارکان سے رابطہ ختم ہوچکا ہے اور وہ اس وقت ان کی حفاظت کی فکر میں ہے،اس لیے مزید تفصیل شیئر نہیں کر سکتا۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ملازمین جرمن اور میکسیکن شہری ہیں اورانھیں مسلح افرادان کی گاڑی سے اتارکرساتھ لے گئے ہیں۔اغواکاروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق سخت گیر جنگجو گروپ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے ہے۔

جنگ زدہ یمن میں اس وقت بہت سے عسکریت پسند گروہ اور تخریبی قوتیں بروئے کار ہیں اور آئے دن انسانی بحران سے دوچارملک میں اغوابرائے تاوان کی واردتیں ہوتی رہتی ہیں۔

فروری میں مسلح افراد نے ابین گورنری میں اقوام متحدہ کے عملہ میں شامل چار یمنیوں سمیت پانچ ملازمین کو اغواکرلیا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان اغواکاروں کا تعلق بھی القاعدہ سے تھا۔

یہ جنگجوگروپ یمن کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں فعال ہے جبکہ ملک اس وقت جنوب میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور شمال میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان منقسم ہے۔

القاعدہ نے2011 میں یمن میں عرب بہار کے انتشار اور پھر ستمبر2014 میں حوثیوں کی دارالحکومت صنعاء پریلغار کے نتیجے میں عبوری حکومت کی برطرفی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ایک منی ریاستیں تشکیل دے لی تھیں لیکن حوثیوں کے خلاف جنگ میں عرب اتحاد کی مداخلت کے بعداس کے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیے گئے تھے اور اس کے بچے کچھے ارکان خفیہ کمین گاہوں میں پناہ لینے پرمجبور ہوگئے تھے۔اب وہ وہیں سے غیرملکیوں کو یرغمال بنانے کی وارداتیں یا سرکاری سکیورٹی فورسز پرحملے کررہے ہیں۔اس گروپ کو امریکی فوج نے بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں