برطانیہ کایوکرینی پناہ گزینوں کے لیےامیگریشن قوانین میں نرمی پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیرداخلہ پریتی پٹیل یوکرین میں جاری تنازع سے راہ فراراختیار کرنے والے مزید پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے ایک نئی اسکیم متعارف کراناچاہتی ہیں۔

روس کے حملے کے بعد یوکرینی شہری اپنا گھربار چھوڑ کرپولینڈ، رومانیہ، سلوواکیہ اور دیگرممالک کا رُخ کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں پناہ گزینوں کا بڑا بحران پیدا ہوچکا ہے اور اب تک یوکرین سے 15 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوکر بیرون ملک جا چکے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی ان لوگوں کے لیے ویزا اسکیموں کا اعلان کرچکا ہے جن کا ملک میں خاندان مقیم ہے یا ان کے رضاکار اسپانسرموجود ہیں لیکن حزب اختلاف کے قانون ساز وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں کہ انھوں نے اپنے یورپی ہمسایوں کے مقابلے میں یوکرینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کافی کام نہیں کیا ہے۔

پریتی پٹیل نے گذشتہ ہفتے پولش سرحد کا دورہ کیا تھا اور وہاں یوکرینی پناہ گزینوں کے حالات بہ چشم خود ملاحظہ کیے ہیں۔انھوں نے برطانوی اخبار دا سن کو بتایا کہ ’’میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے ردعمل میں فوری طور پر اضافہ کر رہی ہوں۔اب میں انسانی راہداری بنانے کے قانونی اختیارات پرغورکررہی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین میں تنازع سے فرار ہونے والے افراد کو برطانیہ میں کسی تعلق کے بغیربھی آنے کا حق حاصل ہوگا‘‘۔

یورپی یونین نے روس کے حملے کے بعد ملک سے فرار ہونے والے یوکرینیوں کوعارضی رہائش دینے اورانھیں تین سال تک روزگار، سماجی بہبود اور رہائش تک رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے۔

ادھر فرانسیسی بندرگاہ کیلیس میں پھنسے یوکرینی پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک پراتوار کے روز فرانس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی محاذآرائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں