روس اور یوکرین

روس شامی جنگجوؤں کویوکرین میں لڑائی کے لیے بھرتی کررہا ہے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس شہری علاقوں میں جنگی مہارت کے حامل شامیوں کو یوکرین میں لڑائی کے لیے بھرتی کررہا ہے جبکہ اس نے لڑائی کا دائرہ یوکرینی شہروں تک پھیلا دیا ہے۔

یہ انکشاف وال اسٹریٹ جرنل نے چارامریکی عہدے داروں کے حوالے سے کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ روس شامی جنگجوؤں کو یوکرین جنگ میں جھونک رہاہے۔اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہےکہ’’روس نے حالیہ دنوں میں شام میں جنگجوؤں کو بھرتی کیا ہے اور اسے امید ہے کہ شہری علاقوں میں ان کی جنگی مہارت یوکرین کے دارالحکومت کیف پرقابض ہونے میں مدد دے گی۔اس طرح یوکرین کی حکومت کو تباہ کن دھچکا لگے گا‘‘۔

ایک امریکی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ شامی جنگجو پہلے ہی روس میں موجود ہیں اور وہ یوکرین میں داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔

شام کے مشرقی شہردیرالزور سے تعلق رکھنے والے ایک خبری ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ روس نے شامی رضاکاروں کو یوکرین جانے کے لیے 200سے 300ڈالرتک دینے کی پیش کش کی ہے اوران سے کہا ہے کہ وہ وہاں چھےماہ تک محافظ کے طور پر کام کریں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ سے تین روز قبل روسی صدرولادی میرپوتین نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ یوکرینی فوج شہریوں کوانسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے ’’غیرملکی گماشتہ جنگجو‘‘برسرزمین روسی فوجیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا:’’حقیقت یہ ہے کہ ہم نونازیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یہ ان کی کارروائیوں سے ظاہروباہر ہے۔قوم پرست اور نونازیوں کی صفوں میں غیرملکی گماشتہ جنگجوموجود ہیں۔ان میں مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی ہیں اور وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اوران کے پیچھے خود چھپنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

روس کی یوکرین میں فوجی مداخلت کو بارہ دن گزرچکے ہیں۔دنیا کی حکومتوں کے حکام اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق روس کی فوجی کارروائیاں اپنے شیڈول سے بہت پیچھے ہیں اورروسی فوج کو کیف کی افواج کی جانب سے غیرمتوقع مزاحمت کا سامنا ہے۔

یوکرین کے حکام نے روس کی فوجی پیش قدمی کے ساتھ ہی اپنے دروازے ان تمام غیرملکی رضاکاروں کے لیے کھول دیے تھے جو ملک میں آکر روسی فوج کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔

یوکرین کے وزیرخارجہ دمیترو کلیبا نے اتوار کو سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ بیس ہزار غیرملکی جنگجو اس وقت ملک میں پہنچ چکے ہیں۔ان میں زیادہ ترکا تعلق یورپ سے ہے اور وہ یوکرینی فورسز کا روسی فوج کی جارحیت کے مقابلے میں ساتھ دے رہے ہیں۔

یوکرین میں جاری اس لڑائی کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اورزخمی ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے مطابق سوموار تک یوکرین میں 406 افراد ہلاک اور801 زخمی ہوچکے ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ جنگ کے مہلوکین اور زخمیوں کے حقیقی اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ہائی کمشنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’زیادہ تر شہری دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال سے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔وہ بھاری توپ خانے کی گولہ باری، کثیرلانچ راکٹ نظاموں ،میزائلوں اور فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں