روس اور یوکرین

یوکرین:خارکیف میں ٹی وی ٹاور پر حملے کے بعد ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کی رات یوکرین نے مشرقی شہر خارکیف میں روسی فوج کی طرف سے ایک ٹیلی ویژن ٹاور کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ویڈیو کلپ میں مذکورہ ٹاور پر روسی بمباری کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

روسی بمباری میں علاقائی استغاثہ کے دفتر اور شہر میں آذربائیجان کے سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مشرقی یوکرین کے خارکیف میں آذربائیجان کے قونصل خانے کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کو کئی بار سائرن بجے جب یوکرین میں روسی فوجی آپریشن گیارہویں دن میں جاری تھا۔ مغرب کا خیال ہے کہ کیف بالآخر روسی افواج کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

"العربیہ" اور "الحدث" کے نامہ نگار نے کہا کہ کیف کو ہر طرف سے مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔ شمالی علاقے سے یوکرین کے دارالحکومت میں داخل ہونے کی روسی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ جبکہ انخلاء جاری ہے۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ روسی میزائلوں نے کیف کے جنوب مغرب میں واقع "وینیزیا" ہوائی اڈے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 364 ہو گئی ہے اور 750 زخمی ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں ماریوپول حکام نے انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے ذریعے شہریوں کا انخلا شروع کرنے کا اعلان کیاجب کہ روسی حکام نے تقریباً 6500 یوکرینی باشندوں کو ڈونیٹسک اور لوہانسک سے روس کے روستوو منتقل کرنے کا اعلان کیا۔

درایں اثنا روسی وزارت دفاع نے آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک 2,203 یوکرائنی ملٹری انفراسٹرکچر سائٹس کو تباہ کرنے، 8 یوکرینی جنگی طیاروں کو مار گرانے، جنوبی یوکرین میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر بمباری، یوکرینی 69 ڈرون اور 778 ٹینک تباہ کر دیئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں