روس اور یوکرین

زیلنسکی کا نئی وڈیو میں اپنی قیام گاہ کے بارے میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کی ایک نئی وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی قیام گاہ کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔ اس سے قبل کئی افواہوں اور رپورٹوں میں کہا جا رہا تھا کہ یوکرینی صدر دارالحکومت کیف سے باہر جا چکے ہیں۔

زیلنسکی کا نیا وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ان کے سرکاری اکاونٹس پر جاری ہوا اور چند گھنٹوں میں ہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ وڈیو میں زیلنسکی نے باور کرایا کہ وہ نہ تو خوف زدہ ہیں اور نہ کسی کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کیف میں ہی رہیں گے۔

زیلنسکی نے اپنی قیام گاہ کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ "میں یہاں شارع بینکوفا میں ہوں جہاں صدارتی دفتر ہے ... میں روپوش نہیں اور نہ کسی سے خوف زدہ ہوں"۔

زیلنسکی نے روسی فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے انسانی گزر گاہوں کے ذریعے یوکرینی شہریوں کے انخلا کو ناکام بنا دیا۔ یہ انخلا دو طرفہ بات چیت کے بعد مقرر تھا۔ زیلنسکی نے سوال کیا کہ "کیا انسانی گزر گاہوں کے حوالے سے سمجھوتے پر عمل درامد ہوا ؟ نہیں ، اس کے بدلے روسی ٹینکوں ، میزائل لانچروں اور روسی بارودی سرنگیں مسلط کی گئیں"۔

یوکرین کے صدر کے مطابق ان تمام امور کے باوجود امن معاہدے تک پہنچنے کے واسطے ماسکو کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ 24 فروری کو یوکرین پر روس کا فوجی حملہ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی مغربی ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ روس کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے ملک کو عسکری سپورٹ فراہم کی جائے۔

دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے بعد ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ آج سے کیف سمیت یوکرین کے 5 شہروں میں شہریوں کے لیے گزر گاہیں کھول دی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں