روس اور یوکرین

سرحد پر جمع تقریبا 100% روسی فوج یوکرین میں داخل ہو چکی ہے : پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج تیرھواں روز ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ اس کے اندازے کے مطابق حالیہ مہینوں میں یوکرین کی سرحد پر اکٹھا ہونے والی روسی افواج کا تقریبا 100% حصہ آج یوکرین کے اندر داخل ہو چکا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کیربی نے پیر کی شام واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں روسی افواج یوکرین میں کوئی قابل ذکر پیش قدمی یقینی نہیں بنا سکیں سوائے ملک کے جنوبی حصے میں وہ علاقے جن پر روس نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اندازے کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتین نے سرحد پر اکٹھا کی گئی اپنی تمام (ڈیڑھ لاکھ) فوجی یوکرین میں داخل کر دیے۔ کئی شہروں پر شدید بم باری کی جا رہی ہے اور شہری مقامات اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق روس کی جانب سے زمینی افواج کے ذریعے بھرپور حملہ خارج از امکان نہیں ہے البتہ اس وقت اس نوعیت کے حملے کے اشارے موجود نہیں۔

جون کیربی نے باور کرایا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے اواخر میں یورپ کے مختلف حصوں میں 500 امریکی فوجی تعینات کیے جانے کے احکامات دیے۔ اس کا مقصد یورپ میں تعینات فوجیوں کو تقویت پہنچانا ہے۔

رواں سال کے آغاز کے بعد سے واشنگٹن اپنے 12 ہزار فوجی یورپ میں تعینات کر چکا ہے۔ یہ تعداد مذکورہ براعظم میں عمومی طور پر تعینات فوجیوں کے علاوہ ہے۔

یوکرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ روسی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے مزید عسکری سپورٹ فراہم کی جائے۔ البتہ امریکا سمیت مغربی ممالک یوکرین کو بھیجی گئی تمام عسکری امداد اور کمک کے باوجود براہ راست طور پر یوکرین روس تنازع میں کودنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے سے تیسری عالمی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ مغربی ذمے داران گذشتہ دنوں کے دوران میں اس امر سے خبردار کر چکے ہیں۔

یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ماسکو اور مغربی ممالک بالخصوص یورپ کے درمیان غیر معمولی تناؤ پیدا ہوا ہے۔ ان ممالک نے روس کے خلاف 5530 پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ان پابندیوں کے ہدف میں روسی بینکوں کے علاوہ تجارتی ادارے ، سیاست دان ، بڑے دولت مند افراد شامل ہیں۔ یہاں تک خود روسی صدر ولادی میر پوتین ، ان کے وزیر خارجہ اور کرملن کے ترجمان بھی ان پابندیوں کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں