روس اور یوکرین

مغرب ہمیں روس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیار اور طیارے مہیاکرے: یوکرینی مشیر

یوکرین پرروس کا حملہ ولادی میر پوتین کی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہورہا ہے:العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

یوکرین کے ایک سینیرعہدہ دار نے ونسٹن چرچل کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں اوزار دیں اور ہم یہ کام ختم کر دیں گے‘‘۔ان سے العربیہ نے پوچھا تھا کہ مغربی ممالک روسی فوج کے حملے کے خلاف لڑائی میں یوکرین کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟

یوکرینی وزیر دفاع کے مشیر مارکین لبکیوسکی نے کہا کہ’’اگرآپ (یوکرین کی) فضائی حدودکو بند نہیں کرسکتے تو براہ کرم ہمیں ہتھیار دیں۔ ہمیں روسی طیاروں اور راکٹوں سے خود کو بچانے کے لیے طیارے اور نظام دیں‘‘۔

یوکرین میں ایک نامعلوم مقام سے العربیہ انگلش سے بات کرتے ہوئے لبکیوسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین پر روس کا حملہ ماسکو اور اس کے رہنما ولادی میر پوتین کی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہو رہا ہے۔

اس کے باوجود انھوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کو فضائی مدد کی ضرورت ہے اور کیف کے حکام اب بھی مغرب کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نو فلائی زون کیوں ناگزیرہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ ہمارے لیے اپنے لوگوں کے تحفظ کے حوالے سے بہت اہم ہے کیونکہ ہم زمینی سطح پر بہت مضبوط ہیں۔ لیکن ہم فضا میں روسیوں کے خلاف نہیں لڑ سکتے‘‘۔

یورپی اور مغربی حکام کے مطابق پوتین کو توقع تھی کہ وہ جلد کیف کا کنٹرول سنبھال سکیں گے اور مغرب نوازحکومت کو عہدہ چھوڑنے پرمجبور کر دیں گے لیکن روسی فوجی اب بھی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

لبکیوسکی نے کہا کہ ’’یہ ان کا اہم منصوبہ ہے اور انھوں نے کیف کے شمالی حصے میں کافی تعداد میں افواج کو جمع کیااور وہ ہمارے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

اگرچہ زیادہ تریورپی ممالک اور امریکااس خوف سے یوکرین کو لڑاکا طیارے مہیا کرنے سے گریزاں رہے ہیں کہ انھیں روس جنگ کے شریک کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔البتہ یوکرینی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اب بھی بات چیت جاری ہے۔

لبکیوسکی نے العربیہ انگلش کو وضاحت کیے بغیر بتایا کہ’’ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں مزید ہتھیار مل جائیں گے۔آج یوکرین کے وزیردفاع جناب(اولیکسئی)ریزنیکوف نے بھی اس کا اعلان کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ روسی حیرت زدہ رہ جائیں گے‘‘۔

انھوں نے مغرب کی جانب سے مہیا کی جانے والی تمام مدد اور روس کے خلاف پابندیوں پر شکریہ ادا کیا لیکن انھوں نے یوکرین کو اسلحہ مہیا کرنے اورحملے سے قبل روس کو سزا دینے کے لیے کارروائی میں تاخیر پرافسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ہمیں روس کے خلاف لڑائی کے لیے دو ہفتے قبل ہتھیارمہیا کیے جاتے توہم مزید مؤثر طریقے سے لڑسکتے تھے۔ لبکیوسکی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس صورت میں ہم اپنے فوجیوں اور اپنے لوگوں کی زندگیوں کا بہتر انداز میں تحفظ کر سکتے تھے۔

انھوں نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ’’وہ یوکرینیوں کی طرح دلیر بنیں۔اگر آپ ہمیں چھوڑ دیں گے تو پوتین آپ کے گھروں تک آجائیں گے اور یہ میرے نزدیک بالکل واضح معاملہ ہے‘‘۔

حکومت کیف میں!

لبکیوسکی نے اصرار کیا کہ صدر ولودیمیر زیلنسکی کی قیادت میں یوکرینی حکومت کیف میں ہی رہے گی۔

یوکرینی مشیر نے کہا کہ آپ جانتے ہیں اورمیں سمجھتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ اتنا متحد ہے اور ایک دوسرے کی حمایت کر رہا ہے، اس لیے روسی صدر پوتین کے لیے اس خونریزجنگ میں فتح حاصل کرنا ناممکن ہے۔

روس کی کیف پر قبضے کی کوششوں کو روکنے میں یوکرینی فوج کی اب تک کی کامیابی کے بارے میں پوچھے جانے پرلبکیوسکی نے کہا کہ’’میں آپ کو یاد دلاؤں گا کہ یہ جنگ کا آٹھواں سال ہے۔ چناں چہ ہمارے پاس بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس تجربہ ہے، بہت سے فوجی ہیں جو پہلے ہی جنگ سے گزرچکے ہیں‘‘۔

انھوں نے2014ء میں جزیرہ نما کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی فوجی اچھے تربیت یافتہ ہیں اور وہ اچھی طرح لیس ہیں۔یوکرینی فوج آج 2014 سے مختلف ہے اور یوکرینیوں جذبہ بہت بلند ہے کیونکہ ہم حملہ نہیں کر رہے ہیں؛ ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں‘‘۔

سفارتی حل اب بھی ممکن

ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ مذاکرات کسی حل تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

لبکیوسکی نے روس کے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کردیا کہ یوکرین شہریوں کو ان علاقوں سے فرار ہونے کی اجازت نہیں دے رہا جہاں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

انھوں نے یوکرین اور روس کے اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان ترکی میں ہونے والے آیندہ مذاکرات کو یوکرین کی پرامن حل تک پہنچنے کی منشاکا ثبوت قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم جنگ روکنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے تیارہیں اور بنیادی چیز جو ہم مانگ رہے ہیں اور ہماری بنیادی درخواست آگ کو روکنا ہے۔جنگ بندی ہر کسی کے لیے اولین ترجیح ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہم ایک پرامن قوم ہیں۔ ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن ہم مادرِوطن کا دفاع کریں گے۔یہ سب کے لیے بالکل واضح ہے‘‘۔

روس اور ایران جوہری معاہدہ

لبکیوسکی نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی بحالی کے لیے امریکاکی کوششوں پرشکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ 2018ء میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے اور اب اس کی بحالی کے لیے گذشتہ 11 ماہ سے ویانا میں مذاکرات جاری ہیں۔

یوکرینی مشیر نے کہا کہ ہمیں ایران کے ممکنہ جوہری معاہدے پر بہت تشویش ہونی چاہیے۔ روس اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے اور اس سے مشرق اوسط میں خلیج عدم استحکام پیدا ہوگا۔ لہٰذا ہمیں اس حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔

فریقین کے درمیان ویانا میں جوہری معاہدہ طے پانے کے قریب ہی تھا لیکن روس نے بعض نئی شرائط پیش کردی ہیں اوراب وہ امریکا سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ یوکرین پرحملے کے جواب میں اس کے خلاف حالیہ اقتصادی پابندیاں ایران کے ساتھ اس کے اقتصادی اور فوجی تعاون پر اثر اندازنہیں ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں