روس اور یوکرین

روسی ہیکروں نے بھی ماسکو کے حریفوں کے خلاف سائبر جنگ چھیڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جہاں ایک طرف تقریبا دو ہفتوں سے روس اور یوکرین کی افواج کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے وہاں "انٹرنیٹ" کے میدان بھی خفیہ معرکہ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے گوگل کمپنی نے منگل کے روز بتایا کہ انٹرنیٹ پر روسی ہیکروں کا گروپ یوکرین اور اس کے یورپی حلیفوں کے اہداف پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔ مذکورہ ہیکر جاسوسی کی کارروائیوں کے حوالے سے انٹرنیٹ سیکورٹی ماہرین کے ہاں معروف ہیں۔

گوگل کے مطابق روس کا مشہور در انداز یونٹ "فینسی بیئر" جو "ABT28" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس ن ے یوکرین کی میڈیا کمپنی اوکرینٹ کو جعلی ای میلز ارسال کیں۔ اس کا مقصد صارفین سے متعلق معلومات چوری کرنا ہے تا کہ روسی ہیکرز انٹرنیٹ پر لوگوں کے کھاتوں کو نشانہ بنا سکیں۔

علاوہ ازیں بیلا روس سے تعلق رکھنے والے گروپ "گھوسٹ رائٹر" نے پولینڈ اور یوکرین کے حکومتی اور عسکری اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

اسی طرح چین میں صدر دفتر رکھنے والے گروپ "موسٹینگ پانڈا" نے بھی وائرس کی حامل فائلیں اور مواد یورپی اداروں کو ارسال کیے۔

البتہ گوگل کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ سائبر حملے کامیاب رہے یا نہیں !

یاد رہے کہ انٹرنیٹ سیکورٹی سے تعلق رکھنے والے یوکرینی ذمے داران نے گذشتہ ماہ تصدیق کی تھی کہ ماسکو کے حلیف بیلا روس سے تعلق رکھنے والے ہیکروں نے یوکرین کے عسکری اداروں کے افراد کے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران میں روس اور یوکرین کے ہیکروں کی جانب سے انٹرنیٹ پر متبادل سائبر حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں 24 فروری کو یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد تیزی آ گئی ہے۔ کئی مغربی ذمے داران خبردار کر چکے ہیں کہ روس ہیکروں کے ذریعے یورپی بینکوں یا بڑے تجارتی اداروں یا یا سرکاری اداروں کو ہیکنگ کی کارروائیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے خواہ یہ ادارے یورپ میں یا امریکا میں ہوں۔

دوسری جانب روس کئی بار اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ یوکرین یا دیگر مغربی ممالک میں اپنے حریفوں کے خلاف انٹرنیٹ ہیکروں کو استعمال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں