روس اور یوکرین

ترکی کا پابندیوں کے باوجود روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی نے باور کرایا ہے کہ وہ روسی تیل کے بائیکاٹ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ انقرہ کا یہ موقف واشنگٹن کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

ترکی کے وزیر توانائی الب ارسلان پیرقدار نے واضح کیا کہ ان کا ملک ماسکو سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔ انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی ہے کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی جس سے تیل کی عالمی طلب پوری کی جا سکے گی۔

پیرقدار نے بدھ کے روز توانائی سے متعلق سیراوک کانفرنس کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ ترکی اپنی قدرتی گیس کی ضرورت کا 45 فی صد ، تیل کی ضرورت کا 17 فی صد اور پٹرول کی ضرورت کا 40 فی صد حصہ روس سے پورا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت مزید تیل کی ضرورت ہے جو کہیں سے بھی آئے، امریکا سے، سعودی عرب سے یا وینزویلا سے یا ایران سے یا پھر کسی بھی اور جگہ سے"۔

پیرقدار نے باور کرایا کہ انقرہ کے لیے یہ آسان نہیں کہ روسی تیل کی ترسیل کو کسی دوسری جگہ سے تبدیل کر لے کیوں کہ روس ایک پرانا اور قابل اعتماد ذریعہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے منگل کی شام روسی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کیے جانے کے ساتھ ہی تیل کی قیمت میں تقریبا 4 فی صد اضافہ ہو گیا۔ برطانیہ بھی یہ بیان دے چکا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک روس سے تیل اور تیل کی مصنوعات بتدریج روک دے گا۔

توقع ہے کہ مذکورہ فیصلوں سے توانائی کی عالمی منڈی میں مزید شورش پیدا ہو گی۔ اس لیے کہ روس دنیا میں خام تیل کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ گذشتہ ماہ 24 فروری کو یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے خام تیل کی قیمت میں 30 فی صد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں