روسی صدر پوتین برہم اور تنہا ہو چکے ہیں: امریکی انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو "برہم اور مایوس" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پوتین یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

درایں اثنا امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ روسی صدر یوکرین پر اپنا حملہ تیز کر سکتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں روس کو فوجی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ولادیمیر پیوتین ۔ اے ایف پی
ولادیمیر پیوتین ۔ اے ایف پی

۔ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینس نے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کی عالمی خطرات سے متعلق سالانہ سماعت میں مزید کہا کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کی ناکامیوں سے پوتین کو روکنے کا امکان نہیں ہے۔اس کے بجائے معاملات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جوہری موقف میں کوئی تبدیلی نہیں

انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دیگر ڈائریکٹرز کے ساتھ بیان دیتے ہوئے ہینس نے کہا کہ پوتین کا اپنی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھنے کا اعلان غیر معمولی تھا لیکن انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے روس کی جوہری پوزیشن میں اس سے زیادہ تبدیلیاں نہیں دیکھی تھیں جو ماضی کے بین الاقوامی بحرانوں کے دوران دیکھی گئی تھیں۔

پس
پس

قابل ذکر ہے کہ کریملن کی جانب سے 24 فروری کو یوکرینی سرزمین پر شروع کیا جانے والا روسی فوجی آپریشن آج بدھ کو 14 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے ماحول کے طویل وقفے کے بعد عدیم المثال سکیورٹی الرٹ ہے۔

ان روسی حملوں نے ماسکو کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیوں کی مہم کا آغاز کیا جس میں 500 سے زیادہ مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ عالمی پابندیوں کا سامنے کرنے کے اعتبار سے روس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں