رفیق حریری قتل کیس میں بری ہونے والے حزب اللہ کے دو ارکان پر فرد جرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے خصوصی ٹریبونل کے اپیلز چیمبر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے مقدمے میں حزب اللہ کے دو ارکان کو بری کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے اور ان دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

چیمبر کا کہنا ہے کہ جج ایوانا ہردلچکووا کے مطابق متفقہ طور پر حسن مرعی اور (حسین) عنیسی کی بریت کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم متفقہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ وہ مجرم ہیں‘۔ ہاردلیچکووا نے مزید کہا اس فیصلے میں جو اگست 2020 میں عدالت کی جانب سے حزب اللہ کے ایک اور رکن (سلیم عیاش) کو فروری کو بیروت کے مرکز میں واقع حریری قتل کیس میں منصوبہ بند قتل کے الزام میں مجرم قرار دینے کے بعد آیا تھا۔ 14 فروری 2005ء کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں مارے جانے والےسابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اس وقت اپنے فیصلے میں ججوں نے عیاش کو اپنے خلاف لگائے گئے پانچ الزامات میں واضح کیا تھا کہ ملزم پر عاید الزامات کی صداقت میں کوئی شک نہیں رہا ہے۔ وہ دہشت گردی کی کارروائی، دھماکہ خیز ڈیوائس کا استعمال کرنے، قتل عمد کی سازش، حریری کودھماکا خیز مواد کے ساتھ اور دانستہ طور پر دھماکا خیز مواد سے 21 دیگر افراد کو قتل کرنے اور جان بوجھ کر 226 افراد کو مارنے کی کوشش میں ملوث ہے۔

حسین عیسی
حسین عیسی

تاہم عدالت جو کہ سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے قائم کی گئی تھی اور دی ہیگ کے قریب لیڈسچنڈم میں واقع ہے کو اس وقت حزب اللہ کے تین دیگر مدعا علیہان اسد صبرا، عنیسی اور مرعی کو مجرم قرار دینے کے لیے کافی ثبوت نہیں ملے تھے۔ استغاثہ نے بعد میں مؤخر الذکر کے خلاف دونوں کی بریت کے خلاف اپیل کی۔

کل جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں عدالت نے مرعی اور عنیسی کو دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی سازش اور اس میں ملوث ہونے، پہلے سے سوچے سمجھے قتل میں ملوث ہونے اور قتل کی کوشش کے جرم میں شرکت سمیت متعدد الزامات پر مجرم قرار دیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس نے مرعی اور عنیسی کے دو وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

سلیم عیاش
سلیم عیاش

تینوں افراد (عیاش، عنیسی اور مرعی) پر غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا اور وہ ابھی تک فرار ہیں۔ حزب اللہ نے ان کی حوالگی سے انکار کر دیا ہے۔ جنوری 2021 میں عیاش کی دفاعی ٹیم نے ان کے خلاف آنے والے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی درخواست جمع کرائی، لیکن عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اس وقت تک اپیل نہیں کر سکتے جب تک کہ ملزم ہتھیار ڈال نہ دیں۔

رفیق حریری کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں تجربہ کار سیاستدان اور 21 دیگر افراد ہلاک اور 226 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں