روس اور یوکرین

چین کی روس اور یوکرین کے بیچ امن کے لیے مثبت کردار کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اہم بات یہ ہے کہ فائر بندی کی بات چیت میں روس اور یوکرین کو سپورٹ کیا جائے۔

چین بارہا مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کردہ پابندیوں کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے۔ وہ ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ چین نے بحران کے مذاکراتی حل پر زور دیا ہے۔

چین اور روس کے درمیان قریبی شراکت داری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بیجنگ حکومت یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے یا اسے حملہ قرار دینے کو مسترد کر چکی ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی یہ کہہ چکے ہیں کہ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کے باوجود بیجنگ اور ماسکو کے درمیان دوستی ابھی تک نہایت مضبوط ہے۔ انہوں نے امن کو یقینی بنانے کے لیے توسط میں بیجنگ کی مدد کی پیش کش بھی کی ہے۔

اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ نے یوکرین کے تنازع میں تمام فریقوں پر زور دیا تھا کہ وہ "انتہائی درجے کی تحمل مزاجی" کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے اس بحران کو باعث تشویش قرار دیا تھا۔ چینی صدر کا یہ موقف فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر اولاف شولٹس کے ساتھ منعقد وڈیو سربراہ اجلاس میں سامنے آیا۔

شی جن پنگ کے مطابق چین کو یورپی بر اعظم میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑکنے پر افسوس ہے۔ چینی صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک یوکرین کو انسانی امداد بھیجے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں