روس اور یوکرین

جنگ فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی، روس شامی اجرتی جنگجو تعینات کر رہا ہے: زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعہ کو کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کی فوج کے ساتھ جنگ کے دوران شامی کرائے کے فوجیوں کو تعینات کر رہا ہے۔

زیلنسکی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین اس جنگ میں ایک "سٹریٹجک موڑ" پر پہنچ گیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لڑائی کی مدت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے یوکرینی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ یہ کہنا ناممکن ہے کہ ہمیں یوکرین کی زمین کو آزاد کرانے کے لیے ابھی کتنے دن کام کرنا ہے لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کریں گے کیونکہ ہم پہلے ہی ایک اسٹریٹجک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

زیلنسکی نے عالمی برادری سے روس پر پابندیوں کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا اور یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ روس کے خلاف "سخت اقدامات" کرے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محاصرہ زدہ یوکرینی شہروں سے شہریوں کےانخلا کے لیے روس کو محفوظ راہداریوں پر بمباری کرنے کی سزا دی جانی چاہیے۔

یوکرینی فورسز۔ [اے پی]
یوکرینی فورسز۔ [اے پی]

یوکرینی صدرکی طرف سے یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوتین نے مشرق وسطیٰ سے روس نواز جنگجوؤں کو یوکرین بھیجنے کی منظوری دی ہے۔

پوتین نے روسی سلامتی کونسل کے ٹیلی ویژن اجلاس کے دوران وزیر دفاع سرگئی شوئیگو سے کہا کہ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو رضاکارانہ طور پر (مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنا چاہتے ہیں) تو آپ کو ان کی جنگی علاقوں میں منتقل ہونے میں مدد کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام جائز ہے کیونکہ یوکرائنی حکومت کے مغربی گاڈ فادرز کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ کھلے عام دنیا بھر سے کرائے کے فوجیوں کو جمع کر کے انہیں یوکرین بھیجتے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین۔ [اے ایف پی]
روسی صدر ولادیمیر پوتین۔ [اے ایف پی]

قابل ذکر ہے کہ یوکرین نے اپنی سرزمین پر روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مسلح افواج میں شامل غیر ملکی رضاکاروں کی ایک کور تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری طرف کریملن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ شام اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے جنگجوؤں کو یوکرین میں روس کے ساتھ مل کر لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ روسی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جو لوگ لڑنا چاہتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے شہری اور شامی ہیں انہیں یوکرین میں لڑنے کی اجازت ہوگی۔

پیسکوف نے کہا کہ یوکرین میں رضاکار جنگجو بھیجنے کا فیصلہ قابل قبول ہے۔ امریکا یوکرینی افواج کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے کرائے کے فوجی بھیجنے کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں