روس اور یوکرین

روسی فوج کی ماریوپول میں مسجدپرگولہ باری: یوکرینی وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روسی فوج نے یوکرین کے جنوبی شہرماریوپول میں ایک مسجد پرگولہ باری کی ہے۔اس مسجد میں ترک شہریوں سمیت 80 سے زیادہ بالغ اوربچّوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

یوکرین نے روس پرالزام لگایا ہے کہ اس نے لوگوں کو ماریوپول سے باہرجانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔شہرمیں ناکابندی کے نتیجے میں لاکھوں افراد محصور ہوکررہ گئے ہیں۔روس نے یوکرین کو لوگوں کی شہرسے انخلا میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ہفتے کے روزایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ماریوپول میں واقع سلطان سلیمان المعظم اور ان کی اہلیہ خُرّم (حورم) سلطان کی مسجد پرروسی فوج نے گولہ باری کی ہے۔وہاں80 سے زیادہ بالغ اور بچّے گولہ باری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے تھے۔ان میں ترک شہری بھی شامل ہیں۔اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا کوئی شخص حملے میں جاں بحق یا زخمی بھی ہوا ہے۔

انٹرفیکس یوکرین نے مقامی میئر کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کی صبح ویسلیکیف شہر کے قریب روس کے راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک ایئربیس تباہ ہوگیا ہے۔اس کے بعدروسی فوج نے مسجد پر حملہ کیا ہے۔ویسلیکیف کی میئر نتالیا بالاسینوویچ نے بتایا کہ روسی فوج کے چلائے راکٹ شہر میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پربھی گرے ہیں۔

دوسری جانب روس نے یوکرین میں خصوصی فوجی کارروائی میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں