سعودی عرب میں جوہری تنصیبات اورصنعت کی ترقی کے لیے ہولڈنگ کمپنی کے قیام کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں سعودی عرب کے گورنرشہزادہ عبداللہ بن خالد نے جوہری توانائی کمپنی کے قیام کی تصدیق کی ہے جو مملکت میں جوہری تنصیبات اور جوہری صنعت کی تعمیر وترقی میں مدد فراہم کرے گی۔

سعودی گزٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ انھوں نے یہ اعلان ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایک تقریر میں کیا ہے۔

سعودی جوہری توانائی ہولڈنگ کمپنی کے وجود کی اطلاعات کی تصدیق شاہ عبداللہ سٹی برائے جوہری اور قابل تجدید توانائی کے اے کیئر) میں آن لائن دستیاب ایک غیر تاریخ شدہ بیان میں کی گئی ہے جوقانونی طور پر ایک آزاد تحقیقی ادارہ ہے۔سعودی عرب کے توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر اس کے سربراہ ہیں۔

کے اے کیئر کے فرائض وذمہ داریوں میں سے ایک ملک کی جوہری توانائی کی صنعت کو ترقی دینا بھی شامل ہے۔آئی اے ای اے میں گورنر کے بیان کے مطابق توانائی پیدا کرنے کے لیے جوہری تنصیبات کی تعمیر کے علاوہ ہولڈنگ کمپنی کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر جوہری اقتصادی منصوبوں میں حصہ لینے اور جوہری توانائی کے شعبے میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

گورنرنے اپنی تقریر میں خاص طور پرکووڈ-19کی وَبا سے پیداہونے والے چیلنجوں کی روشنی میں جوہری توانائی کی تیاری کے عمل میں تحفظ کے پہلو کو بھی اجاگرکیا اور ’’جوہری اورریڈیائی مواد سے تحفظ، ٹرانسپورٹ اور فضلے کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے ایجنسی (آئی اے ای اے) کی کوششوں کی تعریف کی‘‘۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عہدہ دار کا یہ تبصرہ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کی جانب سے 16 فروری کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ عالمی ادارہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر جوہری توانائی کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔

اس سے قبل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے 12 جنوری کو الریاض میں منعقدہ فیوچرمنرلزسمٹ کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کے پاس یورینیم کے وسیع ذخائر موجود ہیں جسے وہ جوہری توانائی کے پروگرام کی تعمیروترقی کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مزید برآں آئی اے ای اے میں اپنی تقریر میں سعودی عہدہ دار نے ایران کی جوہری پالیسی کے بارے میں ’’تشویش‘‘ کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بوشہرری ایکٹر کی حفاظت سے متعلق رپورٹوں اور معلومات کی عدم موجودگی کا خاص طورحوالہ دیا اور کہا کہ ایران واحد ملک ہے جہاں جوہری بجلی گھرمکمل فعال ہے لیکن وہ ابھی تک نیوکلیئر سیفٹی کنونشن میں شامل نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے مبینہ طور پر ایران پر زوردیا کیا کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کرےاور ویانا مذاکرات میں تاخیر سے گریز کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں