روس اور یوکرین

پوتین کی شکست نوشتہ دیوار ہے مگریوکرین میں روس سے نہیں لڑیں گے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اوراس کے اتحادی یوکرین میں جنگ کی وجہ سے "روس پر مزید دباؤ" جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کریں گے" بیڈن نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ایک بیان میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔

بائیڈن نے روس سے امریکا کو سمندری الکوحل والے مشروبات کی درآمد" پر پابندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا روس کو لگژری اشیاء کی برآمدات پر پابندی لگائے گا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم روسی کاروباری رہ نماؤں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کے لیے گروپ آف سیون کے ساتھ ہم آہنگی بڑھا رہے ہیں۔ ماسکو پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روسی اسٹاک ایکسچینج دو ہفتوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

بائیڈن نے تصدیق کی کہ واشنگٹن یوکرین کو مزید مدد فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یوکرین کو دفاعی ہتھیاروں کی مزید کھیپوں کی آمد میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سینیٹ نے یوکرین کے عوام کی مدد کے لیے اخراجات کا بل منظور کیا ہے۔

بائیڈن نے خبردار کیا کہ روس اور نیٹو کے درمیان تصادم تیسری عالمی جنگ کا باعث بنے گا۔ ہم یوکرین میں روس کے خلاف جنگ نہیں کریں گے مگر پوتین ناکام ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر یوکرین میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تو روس کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

آخر میں امریکی صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ روس سے ترجیحی ملک کا درجہ ختم کرکے اسے ایک عام ملک کا کا تجارتی درجہ دیا جائے گا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کی گئی ہے، امریکا کے لیے روسی سامان کی وسیع رینج پر محصولات عائد کرنے اور گہری کساد بازاری کے دہانے پر کھڑی معیشت پر دباؤ بڑھانے کا راستہ صاف کر دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں