ایتھوپیا میں مسلح افراد کے ہاتھوں تین شہریوں کو زندہ جلائے جانے پرشدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی ملک ایتھوپیا میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں تین عام شہریوں کو مسلح افراد کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کے واقعے پر عوام میں شدید غم وغصہ پھیل گیا ہے۔ دوسری طرف حکام نے اس واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔

ایتھوپیا کے حکام نے کہا ہےکہ وہ اس ویڈیومیں کھائے گئے تمام مسلح افراد کے خلاف مقدمہ چلائیں گے جو کم از کم تین افراد کے قتل میں ملوث پائے گئےہیں۔

جمعہ سے سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ایتھوپیا کی گورنمنٹ کمیونیکیشن سروس نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ جس میں مسلح افراد نے حملہ کر کے تین شہریوں کو جلا دیا تھا شمال مغربی بینیشنگول-گومز کے علاقے گوبا میں پیش آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو ریکارڈنگ ایک ہولناک اور غیر انسانی فعل کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ کہ ان کے مقاصد کچھ بھی ہوں حکومت اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اور یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ آیا کسی مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تیگرائے کے رہ نماؤں نےجو وفاقی افواج اور ان کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں نے کہا کہ آتش زنی کا نشانہ بننے والے لوگ تیگرائے نسل کے تھے۔انہوں نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں اس واقعے کو وحشیانہ قرار دیا۔

امھرا کے توسیع پسندوں پر بینیشنگول-گومز میں رہنے والے تیگرائے عوام کے خلاف مظالم کا الزام بھی لگایا۔

حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایتھوپیا کے انسانی حقوق کمیشن نے جمعہ کے روز تیگرائے کی افواج پر شہریوں کو اندھا دھند قتل کرنے اور شہروں پر بڑے پیمانے پر گولہ باری کرنے کا الزام عائد کیا۔

وزیر اعظم ابی احمد کی حکومت نسلی حملوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ نومبر 2020ء کے بعد تیگرائے میں فسادات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں