افغانستان وطالبان

واشنگٹن میں افغان سفارت خانہ کام بند کر دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ میں ایک اعلی سطح کے ذمے دار نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی سفارت خانہ آئندہ ہفتے اپنی خدمات بند کر دے گا۔ اس اقدام کی وجہ افغان سفارت کاروں کا اپنے دارالحکومت سے رابطہ منقطع ہونا اور مالی رقوم ختم ہو جانا ہے۔

مذکورہ ذمے دار نے ہفتے کے روز اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ گذشتہ برس اگست میں کابل کے طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے قبل واشنگٹن میں 25 سفارت کار افغان ریاست کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان افراد کو امریکا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ قیام برقرار رکھنے کے لیے جلد ہی نیا ویزا حاصل کرنا ہو گا۔

ذمے دار نے اپنی نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر تصدیق کی کہ امریکی وزارت خارجہ ان افغان سفارت کاروں کے ساتھ رابطہ کاری کر رہی ہے تا کہ سفارت خانے کا کام منظم طریقے سے بند کرنے کو آسان بنایا جائے۔ اس کا مقصد دوبارہ کام شروع ہونے تک امریکا میں افغان سفارتی مشن کی تمام املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

عالمی برادری نے افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ سابقہ حکومت کے سفارتی مشنوں پر طالبان کا عملی کنٹرول بھی نہیں ہے۔ ان سفارت خانوں کو مغرب کے ہمنوا سفارت کار چلا رہے ہیں۔

امریکی ذمے دار کے مطابق وزارت خارجہ طالبان کی جانب سے مقرر کیے جانے والے سفارت کاروں کی فی الوقت منظوری دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ یہ اس صورت میں ہو سکے گا جب امریکا کابل میں حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرے۔

گذشتہ ماہ کے اوائل میں طالبان کے وزیر خارجہ نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے قریب ہے۔ اس سے قبل طالبان کے وفد نے کئی مغربی سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے ناروے کا دورہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں