روس اور یوکرین

روسی فوج کی یوکرین میں زچہ وبچہ وارڈ پربم باری؛ حاملہ خاتون اور بچے کی موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

روس کی یوکرین کے شہرماریوپول میں ایک اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ پر بم باری کے بعدایک حاملہ خاتون اوراس کے بچے کی ہلاکت کی نئی تفصیل سامنے آئی ہے۔اس حاملہ خاتون کو اسٹریچر پرڈال کر ایمبولینس میں لے جانے کی تصاویرنے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اوران سے انسانیت کے سب سے بے گناہ افراد پرحملے کی حشرسامانی کا اظہار ہوا ہے۔

اسپتال پر حملے کے بعد گذشتہ بدھ کو ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے صحافیوں کی فلمائی گئی ویڈیواور تصاویر میں خاتون کو اپنے خون آلود پیٹ کے نچلے حصے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔ریسکیو اہلکاراسے محصورشہر ماریوپول میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے پرگزرتے ہوئے لے جارہے تھے اور اس کا ہلکا سا چہرہ روسی حملے پر اس کے صدمے کا آئینہ دار تھا۔

یوکرین کے خلاف روس کی 19 دن سے جاری جنگ میں یہ اب تک کے سب سے وحشیانہ لمحات میں سے ایک تھا۔اس خاتون کو فوری طور پرایک دوسرے اسپتال لے جایا گیا جو فرنٹ لائن کے قریب ہے جہاں ڈاکٹروں نے اسے زندہ رکھنے کے لیے اپنی بھرپورکوشش کی۔ طبی عملہ نے بتایا کہ جب اس خاتون کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنا بچّہ کھورہی ہے تو وہ چیخ اٹھی اور بولی:’اب مجھے مار ڈالو‘۔

سرجن تیمورمارین نے بتایاکہ ’’خاتون کا نچلا حصہ کچلا ہوا تھا اور کولہا بھی الگ تھا۔طبی عملہ نے سیزیرین سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا لیکن اس میں ’’زندگی کے کوئی آثار نہیں‘‘ ظاہرہوئے تھے۔پھر،انھوں نے ماں پر توجہ مرکوز کی۔

ڈاکٹر تیمورنے ہفتے کے روزبتایاکہ ماں کو30 منٹ سے زیادہ وقت تک زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن اس کی بحالی کے نتائج سامنے نہیں آئے اور وہ ’’دونوں مر گئے‘‘۔

روس کے اس فضائی حملے کے بعدہونے والی افراتفری میں طبی عملہ کے پاس اس خاتون کا نام جاننے کا وقت نہیں تھا۔اس کی موت کے بعد اس کا شوہر اوروالد لاش وصول کرنے آئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کم سے کم کوئی اسے لینے توآیا تھا اور وہ ماریوپول میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کسی اجتماعی قبرمیں نہیں جا پڑی تھی۔

جنگی جرائم کے الزام کے جواب میں روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ زچہ وبچہ اسپتال پر یوکرینی انتہاپسندوں نے قبضہ کرلیا تھا اور وہ اس کو ایک اڈے کے طور پراستعمال کررہے تھے اوروہاں کوئی مریض یا طبی عملہ اندرنہیں رہنے دیا گیا۔اقوام متحدہ میں روس کے سفیراور لندن میں روسی سفارت خانے نے اے پی کی تصاویر کو’’جعلی خبر‘‘(فیک نیوز)قرار دیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں نے،جو جنگ کے اوائل سے ہی ماریوپول کی ناکا بندی کے بعد اندرون شہرسے رپورٹنگ کر رہے ہیں، حملے کو دستاویزی شکل دی اور متاثرین اورمادی نقصان کوبراہ راست دیکھا۔ انھوں نے کئی خون آلود حاملہ ماؤں کی ویڈیو اور تصاویرشوٹ کیں جو زچہ وبچہ وارڈ سے جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہی تھیں، طبی عملہ چیخ،چلا رہا تھا اور نومولود بچے رورہے تھے۔

اس کے بعد اے پی کی ٹیم نے جمعہ اور ہفتہ کوماریوپول کے نواح میں واقع ایک اوراسپتال میں روسی حملے کے متاثرین کی موجودگی کا سراغ لگایا جہاں انھیں منتقل کیا گیا تھا۔یہ شہر گذشتہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے خوراک ،پانی، بجلی یا تپش کی دستیابی کے بغیرہے اور وہاں ہنگامی جنریٹر سے حاصل ہونے والی بجلی صرف آپریٹنگ کمروں کے لیے مختص ہے۔

جب بچ جانے والے افراد اپنے تلخ تجربات بیان کررہے تھے توباہر ہونے والے دھماکوں سے اسپتال کی دیواریں لرزرہی تھیں۔ علاقے میں وقفے وقفے سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے مگرجذبے بلند ہیں،ڈاکٹر اور نرسیں اپنے کام پر توجہ مرکوز کررہی ہیں۔

بلاگر ماریانا وشیگیرسکایا نے فضائی حملے کے اگلے دن ایک لڑکی کو جنم دیاتھا۔ان سے جب بات کی گئی تو انھوں نےزورداردھماکے کا ذکر کرتے ہوئے نوزائیدہ ویرونیکا کے گرد اپنا بازو لپیٹ لیا۔ تصاویر اورویڈیو میں اسے ملبے سے پھیلی سیڑھیوں سے نیچے جاتے اور اپنے حاملہ فریم کے گرد کمبل پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے،روسی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک اسٹیج حملے میں اداکارہ تھی۔

1
1

ماریانا وشیگیر نے اے پی کو بتایا کہ ’’یہ حملہ 9 مارچ کو ماریوپول کے اسپتال نمبر3 پر ہوا تھا۔ ہم وارڈوں میں لیٹ رہے تھے جب شیشے، فریم، کھڑکیاں اور دیواریں اڑ گئیں‘‘۔ انھوں نے ابھی تک وہی پولکا ڈاٹ پاجامہ پہنا ہوا تھا جو انھوں نے اسپتال سے بھاگتے وقت پہن رکھا تھا۔

وہ بتاتی ہیں :’’ہم نہیں جانتے کہ یہ کیسے ہوا۔ ہم اپنے وارڈز میں تھے اور بعض کے پاس خودکو ڈھانپنے کا وقت تھا، کچھ نے ایسا نہیں کیا‘‘۔

نرس اولگا ویریشگینا کا کہنا تھا کہ’’عارضی نئے زچگی وارڈ میں، ولادت کے وقت کے قریب ہر بچہ ایک نیا تناؤ ساتھ لاتا ہے‘‘۔بچہ جننے والی مائیں بہت مشکل وقت گزار چکی ہیں۔پریشان حال ماؤں میں سے ایک کا طبی عملہ نے جمعہ کے روزآپریشن کیا تھا۔انھوں نے احتیاط سے اس کی بیٹی کوپیٹ سے باہرنکالا اور نوزائیدہ بچّی میں زندگی کی علامات کو متحرک کرنے کے لیے زورسے ہلایا۔چند بے سانس سیکنڈوں کے بعد بچی روتی ہے۔اس پر کمرے میں خوشی سے سب جھوم اٹھتے ہیں۔ نوزائیدہ الانا روتی ہے، اس کی ماں روتی ہے اورطبّی کارکن ان کی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہے ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں