سعودی عرب: داعش میں شامل دو جڑواں بھائیوں کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں وزارت داخلہ نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں سزا یافتہ 81 مجرمان کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ ان میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو جڑواں سعودی بھائی بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق احد سعید الزہرانی اور محمد سعید الزہرانی ستمبر 2015ء میں دارالحکومت ریاض کے نزدیک وزارت داخلہ کی دو کارروائیوں کے دوران میں گرفتار ہوئے تھے۔

ان دونوں بھائیوں نے شام کے صوبے الرقہ میں داعش تنظیم کے ایک عسکری کیمپ میں دو ماہ تک ہتھیاروں کے استعمال اور دھماکا خیز آلات تیار کرنے کی تربیت حاصل کی تھی۔ ان دونوں بھائیوں کو سعودی عرب میں داعش کے ایک رکن کی جانب سے بھاری مالی رقوم ، اسلحہ اور دھماکا خیز مواد فراہم کیا گیا۔ دونوں بھائیوں کو مملکت میں مساجد ، سیکورٹی اہل کاروں اور اہم تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کی ذمے داری سونپی گئی۔

ان دونوں بھائیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے داعش تنظیم میں اس وقت بھرتی کیا گیا جب وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہیں اس بات پر قائل کیا گیا کہ مملکت میں رہتے ہوئے داعش تنظیم کے لیے کام کرنا "فرض عین" ہے۔

احمد اور محمد کے والد سعودی وزارت انصاف میں بطور قاضی (جج) کام کرتے ہیں۔ دونوں بھائی اپنے والد کی اجازت کے بغیر داعش تنظیم میں شمولیت کے لیے شام چلے گئے تھے۔ والد کو پتہ چلا تو انہوں نے دونوں بیٹوں کو واپس آنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تاہم بیٹوں نے انکار کر دیا۔ اس پر والد نے سعودی سیکورٹی اداروں کو اپنے بیٹوں کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ سیکورٹی حکام نے احمد اور محمد کی مملکت واپسی پر فورا انہیں گرفتار نہیں کیا بلکہ کچھ عرصے تک ان کی نگرانی کی جاتی رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں