عالمی سربراہان کے سامنے فن کا مظاہرہ کرنے والی مصری رقاصہ کسمپرسی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی معروف رقاصہ اور فن کارہ نجوی فؤاد ان دنوں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ تنہائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بات مصری نوجوان اداکارہ منہ جلال نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک وڈیو میں بتائی۔

مشہور رقاصہ نجوی کو شکایت ہے کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فن کی دنیا کی تین شخصیات کے سوا کسی نے ان کے حالات اور بیماری کی خبر نہیں رکھی۔ یہ شخصیات منہ جلال، سعید جلال اور نبیلہ عبید ہیں۔

نجوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈیڑھ برس سے ریڑھ کی ہڈی کے مہرے پھسل جانے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کے سبب انہیں حرکت کرنے میں رکاوٹ کا سامنا ہے اور ضروریات پوری کرنے کے واسطے کسی معاون کی ضرورت ہے۔

مصری رقاصہ نے فن کاروں کی انجمن اور ساتھی فن کاروں کی جانب سے انہیں نظر انداز کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ نجوی فؤاد نے وزیر ثقافت سے مطالبہ کیا کہ سینئر فن کاروں کے حالات کا خیال رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور پروڈکشن کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ فن کاروں کو کام کی روئلٹی بھی دیں۔

نجوى فؤاد نے 6 جنوری 1943ء کو مصر کے شہر اسکندریہ میں جنم لیا۔ انہوں نے رقاصہ کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد سینیما کی دنیا میں قدم رکھا اور متعدد فلموں میں اداکاری کی۔

نجوی نے ایک سینیما پروڈکشن کمپنی قائم کی اور کئی فلمیں بنائیں۔ انہوں نے بعض اسٹیج ڈراموں میں بھی کام کیا۔ نجوی نے 1998ء میں رقص کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

نجوی کا شمار اپنے زمانے کی مشہور ترین رقاصاؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ کسنجر نے 1976ء میں قاہرہ کے دورے میں نجوی کا رقص دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس مقصد کے لیے وہ کئی بار ایک بڑے ہوٹل میں گئے اور نجوی کے رقص سے لطف اندوز ہوئے۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی نجوی کے رقص کے دل دادہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں