روس اور یوکرین

ماسکو نے کیف کا سمندر سے عالمی تجارت سے روٹ منقطع کر دیا: لندن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ماسکو اور کیف کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ دوسری طرف برطانیہ نے اتوار کو کہا ہے کہ روسی بحریہ نے یوکرین کے بحیرہ اسود کے ساحل پر ناکہ بندی کر دی ہے اور اسے عالمی سمندری تجارت سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی روزانہ انٹیلی جنس اپ ڈیٹ میں مزید کہا کہ روسی بحریہ یوکرین بھر میں اہداف پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روس نے بحیرہ ازوف میں ایک ایمفیبیئس لینڈنگ آپریشن کیا، جس میں آنے والے ہفتوں میں اس طرح کی مزید کارروائیوں کے امکان سے خبردار کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان کا ملک یوکرین میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مزید آپشنز کی تلاش جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا جس میں منگل کو لندن میں کمبائنڈ ایکسپیڈیشنری فورس کی میٹنگ بھی شامل ہے تاکہ یوکرین کے اپنے دفاع کو تقویت دینے کے لیے مزید آپشنز پر عمل کیا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ ملک کے جنوب مشرق میں کریمیا اور ڈونباس کے درمیان واقع اسٹریٹجک ساحلی شہر ماریوپول کئی دنوں سے روسی افواج کے محاصرے میں ہے اور ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق یہ شہر تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔

روسی حملے کے لئے استعمال ہونے والے محاذوں کا منظر۔
روسی حملے کے لئے استعمال ہونے والے محاذوں کا منظر۔

جبکہ ساحلی شہر اوڈیسا جو کیف اور خارکیف کے بعد یوکرائن کا تیسرا سب سے بڑا شہر اور جنوبی یوکرین کا دارالحکومت ہے، روسی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

یوکرین کی 70 فیصد سمندری تجارت اوڈیسا کی بندرگاہوں سے ہوتی ہے اور اس شہر کے بغیر کیف بین الاقوامی منڈیوں سے بڑی حد تک منقطع ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں