روس اور یوکرین

ماسکو کے ساتھ مذاکرات کا مقصد پوتین سے ملاقات کا بندوبست کرنا ہے: زیلینسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک کا وفد روس کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ان کے اور روسی صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان ملاقات کا بندوبست کیا جا سکے۔

اتوار کو نصف شب کے بعد جاری ہونے والے ایک ویڈیو کلپ میں انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے وفود کے نمائندے ویڈیو کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کے وفد کا واضح مشن تھا کہ وہ صدور کی ملاقات کو یقینی بنانے کے لیے سب کچھ کرے۔

یوکرینی صدر نے ایک بار پھر نیٹو سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک پر نو فلائی زون نافذ کرے۔ ایسا کرنے سے انکار اتحادی ممالک پر روسی حملے کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری فضا کو بند نہیں کرتے ہیں تو یہ صرف وقت کی بات ہوگی اس سے پہلے کہ روسی میزائل آپ کی سرزمین پر نیٹو کی سرزمین پر گریں۔

خیال رہے کہ پولینڈ کی سرحد کے قریب یوکرین کے شہر لویو میں ایک فوجی اڈے پر حملے میں 35 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولینڈ نیٹو کا رکن ہے اور یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ اگر اس کے مغربی اتحادیوں نے یوکرین کو نو فلائی زون نہ قرار دیا تو روس نیٹو کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

نیٹو کی سرحدوں پر

یوکرین کے صدر نے مزید کہا کہ تیس میزائل صرف لویو کے علاقے میں مارے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے روسی فیڈریشن کی سرزمین کو خطرہ ہو۔ یہ نیٹو کی سرحد سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

زیلنسکی نے یاد دلایا کہ انہوں نے گذشتہ سال نیٹو رہ نماؤں کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر روسی فیڈریشن کے خلاف سخت احتیاط نہ برتی گئی تو جنگ شروع ہو جائے گی۔

فضائیہ کے سابق کمانڈر پولش جنرل والڈیمار اسکرزیبکزاک نے اتوار کو کہا یہ اڈہ غیر ملکی لشکر کے یونٹوں کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جس میں رضاکار روسیوں سے لڑنے کے لیے یوکرین پہنچے تھے۔

24 فروری کو یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد سے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد کا کچھ حصہ بھی منظرعام پر آچکا ہے۔

سوچا سمجھا حملہ

دوسری جانب یوکرینی صدر نے زور دے کر کہا کہ اتوار کو کیف کے قریب امریکی صحافی برینٹ رونو کا قتل "روسی فوج کا دانستہ حملہ تھا۔" اسی گاڑی میں سوار ایک اور امریکی صحافی کے ساتھ ساتھ یوکرائنی شہری بھی زخمی ہوا۔

قابل ذکر ہے کہ 24 فروری کو روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے علاقوں میں ایک فوجی آپریشن شروع کیا جسے انہوں نے محدود قرار دیا لیکن یہ تیزی سے شمال اور جنوب میں پھیل گیا ہے۔ یہاں تک کہ کیف کے آس پاس تک پہنچ گیا جس نے غیر معمولی کشیدگی کو جنم دیا۔ روس کی طرف سے یوکرین پر چڑھائی پر مغرب اور امریکا نے سخت مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں