روس اور یوکرین

برطانیہ کی روس کے خلاف نئی پابندیاں عاید؛پُرتعیش اشیاء،اسٹیل اور لوہے کی مصنوعات ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ نے منگل کے روز سیکڑوں روسی افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کردیں اوریورپی یونین اورامریکا کے ساتھ مل کر صدرولادیمیر پوتین کی حمایت کے الزام میں لوگوں کونشانہ بنانے کے لیے ایک نئے قانون کا استعمال کیا ہے۔

برطانیہ، یورپی یونین اورامریکا کوامید ہے کہ یہ پابندیاں روسی صدرکو یوکرین پرحملے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں گی۔

برطانوی حکومت کے اقتصادی جرائم بل کی قانونی سازی کے بعد فوری طور پرعاید کردہ پابندیوں میں صدر پوتین کے قریبی افراد مثلاً سابق صدردمتری میدویدیف، وزیردفاع سرگئی شوئیگو اور روسی ٹیلی ویژن کے ایگزیکٹو قنسطنطین ارنسٹ کو ہدف بنایا گیا ہے۔

روسی تاجروں میخائل فریڈمین اور پیوٹرایون، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف اور وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا کے خلاف بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے اس نئے دور میں 100 ارب پاؤنڈ (130.63 ارب ڈالر) دولت کی حامل اشرافیہ پر قدغنیں عاید کی گئی ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ لیزٹرس نے کہا ہے کہ ہم یوکرین میں روس کے جرائم میں ان افراد کی ملی بھگت پران کا مواخذہ کررہے ہیں اور صدرپوتین کے مقربین یعنی بڑے اشرافیہ سے لے کران کے وزیراعظم اوران کے جھوٹ اور غلط معلومات پھیلانے والے پروپیگنڈے بازوں کو نشانہ بنانے میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روسی صدر پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے اور روس کی جنگی مشین کے لیے رقوم کی ترسیل کے دروازے بند کردیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے 370 سے زیادہ نئی پابندیاں عاید کی ہیں اور 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے مجموعی طور پریہ تعداد 1000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

اس سے قبل برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ روس کولگژری اشیاء کی برآمد پرپابندی عاید کردے گا اور 90 کروڑ پاؤنڈ (1.2 ارب ڈالر) مالیت کی روسی درآمدات پر35 فی صد نیا ٹیرف عاید کرے گا جس میں ووڈکا، دھاتیں، کھاد اور دیگر اجناس شامل ہیں۔

وزیرخزانہ رِشی سَنک نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے نئے محصولات روسی معیشت کو عالمی تجارت سے مزید الگ تھلگ کردیں گے اوراس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسے قواعدوضوابط پرمبنی ایسے بین الاقوامی نظام سے کوئی فائدہ نہ ہو جس کا وہ احترام ہی نہیں کرتا ہے۔

روس کا یہ مؤقف ہے کہ وہ یوکرین کوغیر مسلح کرنے اور اسے نازی ازم سے پاک کرنے کے لیے ایک ’’خصوصی آپریشن‘‘کررہا ہے جسے کیف اور اس کے اتحادی چار کروڑ چالیس لاکھ نفوس پرمشتمل جمہوری ملک پر حملے کا بے بنیاد بہانہ قرار دیتے ہیں۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف برآمدی پابندی جلد ہی نافذالعمل ہو جائے گی اوریہ طے کر لیا جائے گا کہ اس سے کون سی مصنوعات متاثر ہوئی ہیں۔تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ ان میں ممکنہ طور پراعلیٰ فیشن، فن پارے اور لگژری گاڑیاں شامل ہوں گی۔

کارسازکمپنی جیگوار لینڈ روور اور ایسٹن مارٹن اور لگژری فیشن لیبل بربیری سمیت بہت سی برطانوی فرمیں پہلے ہی کَہ چکی ہیں کہ وہ عارضی طور پر روس میں اپنے دفاتربند کررہی ہیں اوراس کو سامان کی فراہمی معطل کررہی ہیں۔

جانسن حکومت کے مطابق 35 فی صد اضافی ٹیرف سے مشروط اشیاء کا انتخاب برطانیہ پراثرات کو کم سے کم کرنے کے لیےکیا گیا ہے جبکہ ان سے روسی معیشت پرزیادہ سے زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔اس سامان میں لوہا، اسٹیل، کھاد، لکڑی، ٹائر،ریلوے کنٹینرز، سیمنٹ، تانبا، ایلومینیم، چاندی، سیسہ، لوہا، غذائی مصنوعات، مشروبات، اسپرٹ ،سرکہ ،شیشہ اور شیشے کے برتن، اناج، تیل کے بیج، کاغذ اور پیپر بورڈ، مشینری، فن پارے، قدیم اشیاء،کھالیں اور مصنوعی فر، جہازاور سفید مچھلی شامل ہیں۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ وہ روس اور بیلاروس کو تمام برآمدی مالیاتی معاونت بند کررہی ہے۔یعنی وہ اب برآمدات کے لیے کوئی نئی ضمانت، قرض یا انشورنس جاری نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں