روس اور یوکرین

’’روسی حملے سے یوکرین میں غذائی تحفظ کو’واضح شدید خطرہ‘لاحق‘‘:ایف اے اوکا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) کے ایک ماہرکا کہنا ہے کہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ نے امدادی گروپوں کے لیے غذائی اجناس کی رسد بہم پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں اور یوکرین میں خوراک کی ترسیل میں خلل ڈالا ہے۔

یوکرین میں ایف اے او کے نامزدعہدہ دار (ڈی آر او)اور سینیرایمرجنسی اور بحالی آفیسر روڈریگ ونیٹ نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ خوراک کی رسد کی زنجیروں کومحفوظ بنانا،غذائی اجناس، سبزیوں اورلائیو سٹاک جیسی غذائیت سے بھرپوراشیاء کی گھریلوسطح پر پیداوار کا تحفظ خوراک کے بحران کو روکنے میں اہم ثابت ہوگا۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ’’یوکرین میں طول پکڑتی جنگ خوراک کی سلامتی اور غریب اور متوسط افراد کی زرعی بنیادوں پرروزی روٹی کے لیے واضح اوربڑھتاہوا خطرہ ہے۔اس ضمن میں آیندہ مہینے بہت نازک ہیں۔نقصان، غذائی تحفظ کے نتائج اور ضروریات کے بارے میں ٹھوس اعدادوشمار حاصل کرنے کے لیے برسرزمین تشخیص ضروری ہوگی‘‘۔

ونیٹ نے وضاحت کی کہ یوکرین میں کسانوں نے ستمبر سے اکتوبر2021 کے درمیان موسم سرما کی گندم کی فصل بوئی تھی جو رواں سال جولائی اور اگست میں کاٹی جائے گی۔آنے والے ہفتوں میں کسان عام طور پر سبزیوں کی پیداوار کے لیے زمینیں تیارکررہے ہوں گے جن کی بوائی مارچ کے وسط سے مئی کے وسط تک متوقع ہے اور جولائی اورستمبر کے درمیان ان کی برداشت ہوگی۔

بہاریہ فصلوں جو، مکئی اور سورج مکھی سمیت اناج کے لیے زمین کی تیاری اور بوائی بھی مارچ اور مئی کے درمیان ہوتی ہے۔نیزستمبراور اکتوبر کے لیے جولائی اور اگست میں فصلیں متوقع ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں جنگ کے بوائی ،شجرکاری اور کٹائی پر اثرانداز ہونے کے امکانات پر گہری تشویش ہے۔خاص طور پر اگرکسان بوائی اور جانوروں کی خوراک تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے تو ان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوگی۔

امدادی کوششوں میں اضافہ

ونیٹ نے بتایا کہ عالمی ادارہ خوراک وزراعت کے پاس اس وقت یوکرین میں 81 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہے اور اب اسے اپنے انسانی ردعمل کو بڑھانے کے لیے’’محور‘‘بنایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت ادارے نے مارچ سے مئی 2022 تک کی مدت کے لیے 7 مارچ کویوکرین میں سریع الحرکت ردعمل منصوبہ شروع کیا تھا۔اس کے تحت جنگ سے متاثرہ 2 لاکھ 40 ہزار پست معیارزندگی کے حامل دیہی افراد کی تیزی سے مدد کے لیے فوری طور پر پانچ کروڑ ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ رقم اقوام متحدہ کی اپیل کے تحت خوراک کی سلامتی اور روزی روٹی کے لیے درکار کل رقم میں سے صرف اشد ضروریات کی نمائندگی کرتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ غذائی تحفظ اور زرعی اجناس کے حوالے سے ایف اے او ،اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام(ڈبلیو ایف پی) اور شراکت داروں نے 15 لاکھ افراد کو خوراک کی امداد اور زرعی اجناس مہیا کرنے کے لیے 18کروڑ35 لاکھ ڈالر کی درخواست کی ہے۔

یوکرین میں ایف اے او کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد میں غذائی اجناس، ایک لاکھ گھرانوں کے لیے ہنگامی زرعی امدادی پیکجز(3لاکھ تک افراد کے لیے) شامل ہیں۔ان میں سبزیوں کے بیج اور اوزاروں کے علاوہ کھیت کے جانوروں کی سلوتری نگہداشت اور قریباً 18 لاکھ افراد کے لیے کثیرالمقاصد مالی امداد شامل ہے۔

ایف اے او اور اس کے شراکت دار جنگ زدہ ملک کی زرعی اور غذائی سلامتی کی ضروریات کا بہتر اندازہ لگانے کے لیے غذائی تحفظ کی تیز رفتار تشخیص کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

عالمی غذائی بحران

روس کے حملے سے قبل ایف اے او کی یوکرین کے پورے علاقے میں موجودگی تھی تاکہ دیہی برادریوں کو نقدرقم سمیت مختلف قسم کی مددمہیا کی جا سکے۔تاہم کرونا وائرس وبا سے پیدا ہونے والے اثرات اور عالمی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یوکرین جنگ سے قبل بھی عالمی سطح پرغذائی عدم تحفظ کے مسائل موجود تھے۔

ونیٹ کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ میں توسیع سے قبل ہی 2021 میں غذائی عدم تحفظ کی عالمی شرح تاریخی سطح پر پہنچ چکی تھی۔گذشتہ سال چار ممالک میں مقامی قحط جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کووڈ-19کی وبا کے اثرات اور بین الاقوامی سطح پراشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مزید بڑھ گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ روس اور یوکرین کی جنگ نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے لیکن لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دوسرے ممالک بھی شدید بھوک جیسے غذائی تحفظ کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ہمیںغذائی بحرانوں سے متاثرہ ممالک کو مقامی طور پر زیادہ خوراک پیدا کرنے میں مدد دینے کے لیے اپنی کوششوں کو دُگنا کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی درآمدی کمی یا اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کےاثرات کو کم کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعرات کو روسی صدر ولادیمیرپوتین نے خبردار کیا تھا کہ اگر مغرب نے روس کی کھادکی برآمدات کے لیے مسائل پیدا کیے توکھادوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پراشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

صدر پوتین کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مغرب روسی کھاد اور کوئلے کے ارب پتی آندرے میلنی چینکو ایسے روسی تاجروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے رہا ہے۔یورپی یونین کی عاید کردہ پابندیوں کے تحت متعدد دولت مند روسیوں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں اور صدر پوتین کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں روسی کارپوریٹ سیکٹرکا ناتاعالمی معیشت سے منقطع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

روس پوٹاش،فاسفیٹ اورنائٹروجن پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے جس میں کھاد شامل ہیں۔روس کا کھادوں کی عالمی پیداوارمیں حصہ 13 فی صد ہے۔فصل اور مٹی کے بڑے غذائی اجزاء:نائٹروجن، فاسفیٹس اور پوٹاش پیدا کرنے والی یورو کیم دنیا کی پانچ سرفہرست کھاد کمپنیوں میں سے ایک ہے۔روس کی وزارت تجارت و صنعت نے ملک کے کھاد پیدا کرنے والے اداروں سے رواں ماہ کے اوائل میں کہا ہے کہ وہ اپنی برآمدات عارضی طور پر روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں