روس اور یوکرین

اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت کاروس کویوکرین جنگ کے خاتمے کاحکم؛زیلنسکی کا’اعلان فتح‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت (عالمی عدالتِ انصاف) نے روس کو یوکرین کے خلاف فوجی چڑھائی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماسکو کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے شدید تشویش کا شکار ہے۔ یوکرینی صدرولودی میر زیلنسکی نے اس فیصلے کو’’مکمل فتح‘‘ قرار دیا ہے۔

داہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا ہے کہ روسی فیڈریشن کو اس کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک یوکرین کےعلاقے میں 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کو معطل کرنا ہوگا۔

ججوں نے مزید کہا :’’ روس کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے زیرقبضہ یا اس کی حمایت یافتہ دیگر فورسز بشمول دونیسک اور لوہانسک کی فوجیں کیف کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو بند کردیں‘‘۔

زیلنسکی نے ٹویٹراس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے:’’یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کے خلاف اپنے مقدمے میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے۔ آئی سی جے نے روس کو فوری طور پر حملہ روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک پابند حکم ہے۔روس کو فی الفوراس کی تعمیل کرنی چاہیے۔ اس حکم کو نظراندازکرنے سے روس (دنیا میں) مزید تنہا ہوکررہ جائے گا‘‘۔

آئی سی جے نے اپنے بیان میں کہا: ’’روس کے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کے نتیجے میں لاتعداد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سمیت اہم مادی نقصان ہوا ہے۔ حملے جاری ہیں اور شہری آبادی کے لیے جینے کے مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں‘‘۔

اس میں مزید کہا گیا ہے:’’بہت سے افراد کوبنیادی غذائی اجزاء، پینے کے قابل پانی، بجلی، ضروری ادویہ یا سردی سے بچنے کے لیے مصنوعی تپش تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ انتہائی غیرمحفوظ حالات میں جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں