روس اور یوکرین

’یوکرین کاآسمان بندکریں‘:صدرزیلنسکی کا امریکی کانگریس سے تقریرمیں مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یوکرین کے صدر ولودی میرزیلنسکی نے امریکی قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے ملک کو روس کے حملے سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔انھوں نے صدر جوبائیڈن سے کہا ہے کہ وہ دنیا میں امن کے رہبربنیں۔

وہ بدھ کو امریکی کانگریس سے ورچوئل خطاب کررہے تھے۔زیلنسکی نے یوکرین میں موت اور تباہی کی گرافک تصاویر پرمشتمل ویڈیو بھی دکھائی ہے۔انھوں نے کہا کہ روس نے یوکرین کے آسمان کو ہزاروں لوگوں کی موت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ان کے بہ قول اس ہلاکت آفرینی کا اختتام ’’یوکرین کاآسمان بند کردو‘‘کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

زیلنسکی نے یوکرین پر نو فلائی زون کے نفاذ اور گذشتہ ماہ سے جاری روسی حملوں کاجواب دینے کے لیے مزید طیاروں اور دفاعی نظام مہیا کرنے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے صدرجوبائیڈن سے انگریزی میں براہ راست درخواست کے ساتھ اپنا خطاب ختم کیا اور کہا:’’میری خواہش ہے کہ آپ دنیا کے رہ نما بنیں۔دنیا کا رہ نما ہونے کا مطلب امن کا رہبربننا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے علاوہ جو بائیڈن اور بہت سے امریکی قانون سازوں نے ان خدشات کے پیش نظریوکرین میں نو فلائی زون کی مزاحمت کی ہے کہ اس سے جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ تنازع بڑھ جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک روسی ساختہ مِگ جنگی طیاروں کو یوکرین میں منتقل کرنے میں مدد کی تجویز کی حمایت نہیں کی ہے حالانکہ کانگریس کے بعض ارکان اس تجویز کے حامی ہیں۔

زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے خطاب سے قبل کینیڈا کی پارلیمان سے روس پرمزید مغربی پابندیوں اور یوکرین پرنو فلائی زون کے نفاذ کی درخواست کی ہے۔

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے یوکرینی زبان میں ’’یوکرین کی شان‘‘کے معنی میں ایک نعرہ کے ساتھ ان کا تعارف کرایا۔ اپنی تقریرکے اختتام پر زیلنسکی نے ویڈیو فیڈ پر ہاتھ ہلایا اورشکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔

صدربائیڈن نے منگل کے روز یوکرین کومزید ہتھیاروں کے حصول اور انسانی امداد کے لیے 13.6 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کے قانون پردست خط کیے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن آج امریکی امداد سے متعلق تبصرے میں یوکرین کو 80 کروڑڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کریں گے۔

زیلنسکی نے اپنی تقریرمیں سنہ1941ء میں جزیرہ ہوائی میں پرل ہاربرپرجاپانی فورسزاور 2001ء میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے امریکا پر ماضی کے حملوں کا حوالہ دیا۔انھوں نے جنوبی ڈکوٹا میں پہاڑوں کے کنارے واقع یادگارماؤنٹ رشمور کا بھی ذکر کیا جس میں امریکا کے چارعظیم ترین صدور کے مجسم چہرے تھے۔

انھوں نے اس سے قبل ایک ترجمان کے ذریعے تقریر میں کہاکہ اس وقت ہمارے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔یوکرین کو ایسی دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا تجربہ یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں کیا تھا۔زیلنسکی نے امن کے تحفظ اور قدرتی اور انسانی وجہ سے آنے والی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

انھوں نے حالیہ ہفتوں میں یورپی اور برطانوی پارلیمانوں سمیت غیر ملکی سامعین سے مختلف تقریروں میں اپنے ملک کے خلاف روس کی جنگ کے مقابلے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔امریکا کی جانب سے یوکرین کی حمایت ایک منفردمثال ہے اور ری پبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں نے منقسم کانگریس میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔دونوں جماعتوں کے کچھ قانون سازوں نے بائیڈن پر زوردیا ہے کہ وہ یوکرین کی مدد میں مزید آگے بڑھیں اور اس کوجنگی طیارے مہیا کیے جائیں۔

منگل کو امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پرروسی صدر ولادیمیر پوتین کو جنگی مجرم قراردینے کے لیے ایک مذمتی قرارداد منظور کی تھی۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ روس کے حملے کے بعد قریباً 30 لاکھ افراد یوکرین سے اپنا گھربارچھوڑ کرجاچکے ہیں ۔ان میں زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں اور وہ پڑوسی ممالک، بالخصوص پولینڈ میں محفوظ پناہ کے خواہاں ہیں۔

یادرہے کہ جنگ کے دوران غیرملکی رہ نماؤں کا امریکی کانگریس سے خطاب شاذونادر ہی ہوتا ہے۔ اس کی ایک مشہورمثال 1941ء میں سامنے آئی تھی جب برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پرل ہاربرپر جاپان کے حملے کے بعد کانگریس میں گفتگو کی تھی۔اس کے چند ہفتے کے بعد ہی امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوگیا تھا۔چرچل نے خبردارکیا تھاکہ ’’بہت سی مایوسیاں اور ناخوشگوارحیرتیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں‘‘۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سابق روسی صدر بورس یلسن نے 1992ء میں کانگریس سے خطاب کیا تھا۔ یلسن نے اس حوصلہ افزا تقریر میں اعلان کیا تھا:’’ہم اس دور کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں جب امریکا اورروس بندوقوں کی نالیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا کرتے تھے اور کسی بھی وقت ٹریگر کھینچنے کوتیار تھے‘‘۔

لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس پر عاید کردہ حالیہ پابندیوں اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات نے ایک مرتبہ پھر تاریخ دُہرائی ہے اور امریکااورسابق سوویت یونین کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری سرد جنگ کی یادیں تازہ کردی ہیں۔بورس یلسن نے اپنی مذکورہ تقریر میں اسی سردجنگ کا حوالہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں