افغانستان وطالبان

اقوام متحدہ نے طالبان کے زیرانتظام افغانستان کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو طالبان کے زیرانتظام افغانستان کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔طالبان کو ابھی تک بین الاقوامی سطح پروسیع پیمانے پرتسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل میں اس ضمن میں ایک قرارداد منظورکی گئی ہے۔اس میں طالبان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کے نئے ایک سالہ مینڈیٹ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ ملک میں قیامِ امن کے لیے ’’اہم‘‘ہے۔

روس نے اس قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور کونسل کے باقی چودہ ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس قرارداد میں انسانی، سیاسی اور انسانی حقوق کے محاذوں پرتعاون کے متعدد عناصرشامل ہیں۔اس میں خواتین، بچّوں اور صحافیوں کے حقوق کی بھی صراحت کی گئی ہے۔

ناروے کی اقوام متحدہ میں سفیرمونا جول نے، جن کے ملک نے قرارداد کا مسودہ تیار کیا تھا، رائے شماری کے بعد اے ایف پی کو بتایا کہ ’’یو این اے ایم اے (افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن) کے لیے یہ نیا مینڈیٹ نہ صرف فوری انسانی اور اقتصادی بحران کے ردعمل کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ افغانستان میں امن واستحکام کے ہمارے اہم مقصد کے حصول کے لیے بھی اہم ہے‘‘۔

جول نے کہا کہ کونسل اس نئے مینڈیٹ کے ساتھ واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ افغانستان میں امن واستحکام کے فروغ اورافغان عوام کی مدد کے لیے عالمی ادارے کے مشن کا اہم کردار ہے کیونکہ انھیں بے مثال چیلنجوں اورغیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں