امریکا پاسداران انقلاب کو دہشت گردی سے نکالنے کے بدلے کیا چاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ویانا میں جوہری مذاکرات اپنے آخری مراحل کے قریب پہنچنے کے جلو میں ایسا لگتا ہے کہ امریکا نے پہلے ہی ایرانی پاسداران انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی بلیک لسٹ سے نکالنے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بدلے میں تہران کی طرف سے امریکا کو تہران کی اس غیرمعمولی طاقت کو روکنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ اس قدم کے بدلے میں ایران کی طرف سے قابل قبول عہد کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے توسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2019ء میں پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جا سکے گا۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کے پروگرام پر ریپلیکن کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے۔

علاقائی سرگرمیوں کو روکنےکی شرط

ذریعے نےجس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ تہران کی جانب سے اپنی علاقائی سرگرمیوں کو روکنے سے متعلق کسی قسم کے عزم اور اقدامات کے بدلے میں دہشت گرد کا ٹائٹل منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے۔

یہ اطلاع "ایکسیس" ویب سائٹ کی جانب سے گذشتہ روز اسرائیلی اور امریکی ذرائع کے حوالے سے اس ڈیل میں بائیڈن انتظامیہ کی سوچ کی خبر کے بعد سامنے آئی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نےایرانی پاسداران انقلاب کو امریکی دہشت گردی کی فہرست سے نکالے جانے کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ پابندیاں ہٹانا جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ہونے والی بات چیت کا مرکز ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں طاقت کے پیچیدہ ڈھانچے میں آخری دور میں پاسداران انقلاب کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ابراہیم رئیسی کے صدر منتخب ہونے کے بعد پاسداران انقلاب کی گرفت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں